بیجنگ (شِنہوا) چین کا ہدف ہے کہ 2030 تک دنیا کی بڑی آٹو موبائل طاقتوں میں شامل ہو جائے جبکہ نئی توانائی سے چلنے والی سمارٹ اور مربوط گاڑیوں (این ای ویز) کے پورے صنعتی ذرائع میں اپنی مسابقتی برتری کو مزید مضبوط کرے۔
5 سالہ صنعتی ترقیاتی منصوبے میں ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2030 تک ملکی مارکیٹ میں نئی مسافر گاڑیوں کی فروخت میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کا حصہ 70 فیصد جبکہ نئی کمرشل گاڑیوں کی فروخت میں ان کا حصہ 40 فیصد تک پہنچایا جائے۔
توقع ہے کہ 2030 تک خودکار ڈرائیونگ کی خصوصیات سے لیس گاڑیوں کا بڑے پیمانے پر استعمال شروع ہو جائے گا جبکہ موٹرویز، شہری ایکسپریس سڑکوں اور بعض شہری سڑکوں پر انتہائی خودکار ڈرائیونگ بھی متوقع ہے۔
منصوبے میں بنیادی ٹیکنالوجیز میں مزید پیش رفت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے تحت 2030 تک مسافر گاڑیوں کے اوسط ایندھن کے استعمال کو 100 کلومیٹر پر 3.3 لیٹر اور خالص برقی مسافر گاڑیوں کی اوسط بجلی کی کھپت کو تقریباً 100 کلومیٹر پر 11.5 کلو واٹ آور تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
منصوبے میں صنعت کے ڈھانچے کو مسلسل بہتر بنانے اور ڈیجیٹل و ذہین ترقی کی نسبتاً بلند سطح برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ مجموعی محنت کی پیداواری صلاحیت میں 2025 کی سطح کے مقابلے میں 15 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ منصوبے کا مقصد فروخت کے لحاظ سے دنیا کی ٹاپ 10 کمپنیوں میں شامل کئی گاڑیاں بنانے والے اداروں اور عالمی سطح کی ٹاپ 100 آٹو پارٹس کمپنیوں کو فروغ دینا بھی ہے۔
تازہ ترین صنعتی اعداد و شمار کے مطابق اگست میں چین کی آٹو مارکیٹ میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں نے اپنی غالب پوزیشن مزید مستحکم کی اور ماہانہ نئی گاڑیوں کی فروخت میں این ای ویز کا حصہ ریکارڈ 60.6 فیصد تک پہنچ گیا۔
چائنہ ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں این ای ویز کی پیداوار 16 لاکھ 50 ہزار سے زائد جبکہ فروخت 16 لاکھ 40 ہزار سے زائد یونٹس رہی اور دونوں میں سالانہ بنیاد پر تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا۔


