نان جنگ (شِنہوا) سرحد پار ٹیلی کام اور سائبر فراڈ کے خلاف کارروائی کے لئے ایک بین الاقوامی اتحاد جمعرات کو تشکیل دے دیا گیا۔
چین کے مشرقی شہر لیان یون گانگ میں منعقدہ افتتاحی کانفرنس میں اتحاد کے 46 بانی ممالک، 34 مبصر ممالک اور اقوام متحدہ اور انٹرپول سمیت 4 بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
چینی حکومت کی جانب سے تشکیل دیا گیا یہ اتحاد ایک بین الحکومتی تنظیم ہے جس کا مقصد سرحد پار ٹیلی کام، سائبر فراڈ اور اس سے متعلق جرائم کے خلاف کارروائی کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔
چین اور دیگر بانی ارکان جن میں پاکستان، ویتنام، لاؤس، کینیا، کمبوڈیا اور روس شامل ہیں، کے نمائندوں نے کانفرنس سے خطاب کیا جبکہ انٹرپول کے نمائندے نے مبارک باد کا پیغام پیش کیا۔
شرکاء نے اتحاد کے قیام کے لئے چین کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے عالمی سطح پر عوامی سلامتی کے تحفظ کے لئے اسے اہم قرار دیا۔
شرکاء نے اتحاد کے قیام سے متعلق مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ٹیلی کام اور سائبر فراڈ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
اعلامیے کے مطابق بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد پر زیادہ موثر، پیشہ ورانہ، فعال اور عملی اقدامات پر مبنی بین الحکومتی تنظیم کا قیام ٹیلی کام اور سائبر فراڈ سمیت متعلقہ جرائم کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مربوط بنانے میں مدد دے گا۔ اس کے علاوہ افراد، قانونی اداروں اور دیگر تنظیموں کے تحفظ اور ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔


