وینس (شِنہوا) اٹلی کے شہر وینس کے لیڈو کے قریب ایک چھوٹے سے جزیرے پر قائم نمائش گاہ میں ایک غیر ملکی سیاح نے ورچوئل رئیلٹی ہیڈ سیٹ پہنا اور ایک چینی کہانی کی دنیا میں داخل ہو گیا۔
نمائش گاہ کے باہر مزید ناظرین اپنی باری کے انتظار میں قطار میں کھڑے تھے تاکہ ’دی پیجن رنگ‘ نامی حقیقت سے قریب تر چینی فن پارے کا تجربہ کر سکیں، جو خاندان، یادداشت اور نسلوں کے درمیان رشتوں کے موضوع پر مبنی ہے۔
83 ویں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کا یہ منظر اس بات کی واضح مثال ہے کہ حقیقت سے قریب تر انداز میں کہانی سنانے کا فن کس طرح چینی تخلیق کاروں کے لئے دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچنے کے نئے امکانات پیدا کر رہا ہے۔
2016 میں قائم کیا گیا وینس ایمرسیو فیسٹیول کا ایک باضابطہ شعبہ ہے اور اب یہ فنون اور میڈیا کے لئے دنیا کے بڑے عالمی ایونٹس میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں تخلیقی ایکسٹینڈڈ رئیلٹی (ایکس آر) فن پارے پیش کئے جاتے ہیں جن میں حقیقت سے قریب تر ویڈیوز، ورچوئل اور مکسڈ رئیلٹی تجربات، ورچوئل دنیائیں اور تنصیبات شامل ہیں۔

اٹلی کے شہر وینس میں 83 ویں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹول کے وینس ایمرسیو سیکشن کے پلیئنگ ایریا میں حاضرین پراجیکٹ آؤٹ آف دی ایشز دیکھ رہے ہیں۔(شِنہوا)
ژانگ یوچھی اور تاؤ شی شن کی ہدایت کاری میں بننے والے ’دی پیجن رنگ‘ کو اس سال وینس ایمرسیو مقابلے کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی پوتی کی کہانی ہے جو ایک کھوئے ہوئے کبوتر کے چھلے کی تلاش میں اپنے دادا کے ساتھ خاندان کے پرانے گھر واپس جاتی ہے۔ بظاہر ایک عام خاندانی سفر سے شروع ہونے والی یہ کہانی بتدریج یادداشت، رفاقت اور محبت کی داستان میں بدل جاتی ہے۔
ژانگ اور تاؤ نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’گزشتہ چند روز کے دوران یہ فن پارہ دیکھنے آنے والے زیادہ تر ناظرین بیرون ملک سے تھے۔ بہت سے غیر ملکی ناظرین اسے دیکھنے کے بعد آبدیدہ ہو گئے۔ شاید اس کام نے کسی ایسی چیز کو چھو لیا ہے جس سے لوگ جذباتی طور پر خود کو جوڑ سکتے ہیں۔‘‘
ان کہانیوں اور جذباتی تجربات کے پس پردہ ایک اور اہم قوت موجود ہے اور وہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے۔

اٹلی کے شہر وینس میں 83 ویں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹول کے وینس ایمرسیو سیکشن کے پلیئنگ ایریا کا منظر۔(شِنہوا)
وینس ایمرسیو کی شریک کیوریٹر لز روزینتھل نے ’دی پیجن رنگ‘ میں گاؤشیئن سپلیٹنگ نامی جدید تھری ڈی رینڈرنگ تکنیک کے استعمال کو نمایاں قرار دیتے ہوئے اسے خاص طور پر اختراعی طریقہ قرار دیا۔
لز روزینتھل نے کہا کہ ’’یہ آپ کو کہانی میں اس انداز سے داخل کر دیتا ہے جو ہم نے پہلے نہیں دیکھا۔ یہ تقریباً ایسا ہے جیسے آپ کسی فلم کے اندر قدم رکھ رہے ہوں۔‘‘


