ہومتازہ ترینروس میں چینی ادب کے قارئین میں تیزی سے اضافہ

روس میں چینی ادب کے قارئین میں تیزی سے اضافہ

ماسکو (شِنہوا) روس میں چینی ادب تیزی سے مقبولیت پا رہا ہے جہاں چینی مصنفین کی تخلیقات کو پذیرائی مل رہی ہے اور مقامی ناشران کی ان میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔

ماسکو میں جاری 39 ویں بین الاقوامی کتاب میلے میں چین کو مہمان اعزاز کا درجہ حاصل ہے۔ اس میں ’ریڈنگ چائنہ‘ کے عنوان سے منعقدہ پروگرام کے تحت چین کے موضوع پر مبنی 2 ہزار سے زائد عنوانات اور تقریباً 5 ہزار کتب نمائش کے لئے رکھی گئی ہیں۔

روسی ناشران کے لئے چینی ادب کی بڑھتی ہوئی کشش نے مارکیٹ میں چینی تصانیف کی وسیع تر اقسام متعارف کرانے کے نئے مواقع پیدا کر دیئے ہیں۔

روس کے سب سے بڑے جنرل انٹرسٹ پبلشنگ ہاؤسز میں سے ایک ایکسمو چینی زبان کے تراجم شائع کرنے والا ایک کلیدی ادارہ بن چکا ہے۔

ایکسمو کی ایڈیٹر داریا شپاکووسکایا نے شِنہوا کو بتایا کہ قدیم چین کے پس منظر میں لکھی گئی کتابیں نوجوان روسی قارئین میں بالخصوص بہت مقبول ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ خیالی داستان ہے یا نہیں۔ چغے میں ملبوس مرد، خوبصورت ملبوسات میں خواتین، سازشیں اور پیچیدہ رشتے یہی وہ چیزیں ہیں جو اسے شاندار بناتی ہیں۔ یہ کچھ نیا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو واقعی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

روس میں ایشیائی اینیمیشن، ٹیلی ویژن سیریز اور گیمز کی بڑھتی موجودگی نے بھی چینی ادب کی مقبولیت کو مزید ہوا دی ہے۔

ایکسمو کے بین الاقوامی تخلیقی حقوق کے ماہر آندرے چیرنیکوف نے کہا کہ اب چین میں دلچسپی لینا ایک فیشن بن چکا ہے، اگرچہ اب میں جوان نہیں رہا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میرے دوستوں کے بچے یورپی ثقافت کے بجائے ایشیائی ثقافت میں رچے بسے ہیں۔

شپاکووسکایا کا کہنا تھا کہ ادب، ٹیلی ویژن اور بصری فنون کے ذریعے روسی قارئین چینی ثقافت کو بہتر طور پر سمجھ رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی ثقافتی تبادلے کو فروغ مل رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ بہت سے نوجوان چینی طلبہ بھی روس میں تعلیم حاصل کرنے کا انتخاب کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر بے حد خوشی ہے کہ چینی فریق نے بھی روسی منڈی میں دلچسپی لینی شروع کر دی ہے۔ یہ ایک حقیقی ثقافتی تبادلہ ہے۔ ہم ان کے ادب میں دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ ہمارے ادب میں۔

ایکسمو چینی مصنف مو یان کے ناولوں کے روسی زبان کے ایڈیشن بھی شائع کرتی ہے۔ یہ کتابیں روسی مارکیٹ میں مقبول ہیں اور نوجوان قارئین کو متوجہ کرنے کے لئے ان کے سرورق کے ڈیزائن انتہائی دلکش بنائے گئے ہیں۔

شپاکووسکایا نے مزید کہا کہ نوجوان قارئین مو یان کی طرف نہ صرف ایک معروف چینی مصنف کی حیثیت سے کھنچے چلے آتے ہیں بلکہ اس لئے بھی کہ ان کی تحریریں متنوع بیانیہ اسلوب کی حامل ہوتی ہیں اور ان میں وسیع پیمانے پر موضوعات کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

پبلشنگ ہاؤس کے عملے کا کہنا تھا کہ اگرچہ مو یان کو ایک اہم ادبی شخصیت مانا جاتا ہے لیکن ان کی تحریروں کی جدید انداز میں پیشکش نے ان کے کام کو نوجوان نسل تک پہنچانے میں مدد دی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں