بینکاک (شِنہوا) تھائی-چینی صحافیوں کی تنظیم کے صدر کامپول مہاناکول نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پیدا ہونے والے مسائل کے درمیان ایشیا بحرالکاہل کے میڈیا اداروں کے درمیان حقائق کی جانچ، خبروں کے وسائل کے تبادلے اور مشترکہ رپورٹنگ جیسے شعبوں میں قریبی تعاون خطے میں اتفاق رائے پیدا کرنے اور ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بات ہفتے کو چین کے جنوبی شہر شین زین میں شروع ہونے والے ایشیا بحرالکاہل میڈیا فورم میں شرکت کے لئے روانگی سے قبل شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
کامپول نے کہا کہ میڈیا کے درمیان تعاون کا ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون (اپیک) کے تحت علاقائی تعاون سے گہرا تعلق ہے۔ ان کے مطابق خبر رسانی اور معلومات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرنے والے میڈیا اداروں کو براہ راست رابطے بڑھانے اور عملی تعاون کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت اور غلط معلومات سے پیدا ہونے والے مسائل کی جانب بھی توجہ دلائی، جن میں آزادانہ طور پر آن لائن مواد تیار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ اور خبریں تیار کرنے اور پھیلانے میں آسانی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج موبائل فون رکھنے والا ہر شخص خود کو نام نہاد "صحافی” کہہ سکتا ہے لیکن ہم اب بھی چاہتے ہیں کہ عوام مرکزی دھارے کے میڈیا پر اعتماد کریں۔
کامپول نے کہا کہ مرکزی دھارے کے میڈیا ادارے مقررہ ادارہ جاتی نظام کے تحت کام کرتے ہیں اور ان کی جانب سے شائع کی جانے والی معلومات کے لئے انہیں جواب دہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عام طور پر ایک خبر معلومات جمع کرنے، خبر لکھنے، ادارتی جائزے، تصدیق اور حتمی منظوری سمیت کئی مراحل سے گزرتی ہے۔ اس کے برعکس آن لائن مواد تیار کرنے والے بعض اوقات زیادہ سے زیادہ صارفین کی توجہ حاصل کرنے اور فوری طور پر مواد شائع کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ اسے آمدنی میں تبدیل کیا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں غیر مصدقہ معلومات زیادہ آسانی سے تیار اور پھیل سکتی ہیں۔
کامپول نے کہا کہ ماضی میں ریڈیو سب سے تیز ذریعہ تھا، پھر ٹیلی ویژن آیا جبکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران انٹرنیٹ سب سے تیز ذریعہ بن گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر کوئی خبر سب سے پہلے شائع کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس سے غلطیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر گوانگ ژو میں ایک مہمان گوانگ ژو میٹرو لائن میں اپنے سفر کے تجربے کی ویڈیو بنا رہا ہے-(شِنہوا)
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) نیوز رومز کو اہم اور فوری واقعات پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ خبر لکھنے، کاپی ایڈیٹنگ اور حقائق کی جانچ میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ حقائق کی تصدیق، پیشہ ورانہ فیصلہ سازی اور شائع ہونے والی خبروں کی ذمہ داری قبول کرنا میڈیا اداروں کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔
تھائی-چینی صحافیوں کی تنظیم کے قیام کو 10 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران تنظیم نے دونوں ممالک کے درمیان خبروں کے تبادلے، صحافیوں کے باہمی دوروں اور پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دیا ہے۔
کامپول نے بتایا کہ تھائی میڈیا کے صحافی اے آئی اور نئے میڈیا کے لئے مواد تیار کرنے کی تربیت حاصل کرنے چین جا چکے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے میڈیا ادارے خبروں کے وسائل کے تبادلے کو بھی وسعت دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا اداروں کے درمیان مستحکم شراکت داری قائم ہونے کے بعد وہ مناسب اجازت کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز جیسے بصری مواد زیادہ موثر انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔
20 سال سے زائد عرصے سے صحافت سے وابستہ کامپول نے کہا کہ خطے کے مختلف میڈیا اداروں میں ثقافتی پس منظر، رپورٹنگ کے طریقہ کار اور اظہار کے انداز کے حوالے سے فرق پایا جاتا ہے۔ ان کے خیال میں شین زین میں ہونے والا ایشیا بحرالکاہل میڈیا فورم شرکاء کو خبروں کی تیاری اور ایڈیٹنگ کے تجربات شیئر کرنے اور خبر سازی میں اے آئی کے استعمال پر تبادلہ خیال کا ایک اچھا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے کامپول نے امید ظاہر کی کہ خطے کے میڈیا ادارے پیشہ ورانہ تربیت اور اے آئی کے استعمال میں باہمی روابط اور تعاون کو بڑھائیں گے جبکہ تحریری، تصویری اور ویڈیو مواد کے تبادلے اور اہم واقعات کی مشترکہ کوریج میں بھی تعاون مزید مضبوط کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ تھائی لینڈ، چین اور پورے ایشیا بحرالکاہل خطے کے قابل اعتماد میڈیا ادارے اور صحافیوں کی تنظیمیں تعاون کے لئے ایک زیادہ مستحکم اور دیرپا پلیٹ فارم قائم کر سکیں گی۔


