واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی فوج ایران پر جب چاہے مزید حملے کرنے کے لئے تیار ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات بہت شدید حملہ کیا گیا اور ہم جب چاہیں ایک اور حملہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے ساتھ ایران کی جانب سے تیار کیا جانے والا تمام نیا فوجی سازوسامان تباہ کر دیا ہے۔
ایرانی حکام نے بدھ کو کہا کہ منگل کی رات امریکی حملے میں جنوبی ایران میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔
امریکی سنٹرل کمانڈ نے بدھ کو کہا کہ وہ ان اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے اور امریکی فوج کبھی بھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔
بدھ کی سہ پہر جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ واقعی آبنائے ہرمز کا نام خود سے منسوب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک خیال کے طور پر سامنے آیا تھا۔
ٹرمپ نے بدھ کی صبح اس اہم آبی گزرگاہ کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی جب انہوں نے ایک ہفتے سے بھی کم عرصہ قبل کینیڈا کے ساتھ محصولات کے تنازع پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے "جھیل امریکہ” رکھنے کے انتظامی حکم نامے پر دستخط کئے تھے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اب جبکہ یہ ہمارے یعنی امریکہ کے کنٹرول میں ہے، کیا ہمیں آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے "آبنائے ٹرمپ” رکھ دینا چاہیے؟
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ ماہ لانگ آئی لینڈ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ قرار دیں گے۔


