بیجنگ (شِنہوا) چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے کہا ہے کہ چین نیپال کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس کے لئے ہنگامی امدادی سامان کی تیسری کھیپ تیار کر رہا ہے۔
گو نے بتایا کہ چین کی جانب سے فراہم کردہ ہنگامی امدادی سامان کی دوسری کھیپ منگل کی دوپہر نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو پہنچ گئی جبکہ ڈی این اے کی شناخت کے پانچ ماہرین بھی اسی پرواز سے نیپالی فریق کی متعلقہ کاموں میں مدد کے لئے پہنچے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ 26 اگست کو دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں مٹی کا ایک مہلک تودہ گرنے کی تباہ کاری کے بعد اضافی ہنگامی امداد اور تکنیکی مدد فراہم کرنے پر نیپال نے چین کا شکریہ ادا کیا ہے۔ نیپال کے سرحدی علاقے میں بلند پہاڑی گلیشیئر پھٹنے سے رونما ہونے والی اس آفت کے باعث دونوں اطراف بھاری جانی نقصان ہوا ہے اور متعدد افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔
گو نے معمول کی ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ چین ہنگامی امدادی سامان کی تیسری کھیپ تیار کر رہا ہے جس میں عارضی پل، وبائی امراض سے بچاؤ کا سامان اور ہنگامی مواصلاتی آلات شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین نیپال کی ضرورت کی بنیاد پر ڈی این اے کی شناخت کے ماہرین کا دوسرا گروہ بھیجنے کے لئے بھی تیار ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چین نیپال میں موجود اپنے شہریوں اور اداروں کی سلامتی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور لاپتہ چینی شہریوں کی تلاش کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے کی خاطر نیپال کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
گو نے بتایا کہ نیپال کے آفت زدہ علاقوں میں تقریباً 100 چینی شہری اب بھی لاپتہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین نیپال کی جانب سے فراہم کردہ امداد کو سراہتا ہے اور امید کرتا ہے کہ وہ نیپال میں موجود چینی شہریوں کو بچانے اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مدد جاری رکھے گا۔
گو نے مزید کہا کہ نیپال میں قائم چینی سفارت خانہ ضرورت مند چینی شہریوں کو امداد فراہم کرنے کے لئے تمام تر کوششیں جاری رکھے گا۔


