بشیکیک (شِنہوا) قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ قازقستان کے تعلقات کے بے مثال اعلیٰ سطح پر پہنچنے کے ساتھ ہی ان کا ملک چین کے ساتھ دائمی جامع تذویراتی شراکت داری مزید مستحکم کرنے، تعلقات کو وسعت دینے اور تعاون کے نئے امکانات پیدا کرنے کے لئے تیار ہے۔
شِنہوا کو دیئے گئے ایک تحریری انٹرویو میں توکائیف نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ہمسائیگی کی ایک لمبی دوستانہ تاریخ اور ایک طویل مشترکہ سرحد موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسا کہ قازقستان کی ایک کہاوت ہے کہ ’ایک ہی راستے پر چلنے والے ایک ہی جیسا مقدر رکھتے ہیں۔‘ قازقستان اور چین کے درمیان دوستانہ تعلقات دونوں ممالک کے عوام کے بنیادی مفادات کا باعث ہیں اور یوریشیا بھر میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے بھی ایک اہم عنصر ہیں۔
توکائیف نے کہا کہ میں قازقستان کے لئے دوستانہ جذبات پر صدر شی جن پھنگ کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جو سیاسی مکالمہ ہم نے مسلسل مقدم رکھا ہے وہ قازقستان-چین تعلقات کا ایک بنیادی ستون بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری تذویراتی شراکت داری جامع ہے اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ٹرانسپورٹ سے صنعتی تعاون، زراعت، ڈیجیٹلائزیشن، صحت عامہ، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم اور ثقافت تک تمام کلیدی شعبوں کا احاطہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں جس میں چین قازقستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جبکہ انہوں نے ٹرانسپورٹ اور سامان کی نقل و حمل کے انتظام کو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا تذویراتی شعبہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مشرق اور مغرب کو جوڑنے والی ایک قدرتی کڑی کے طور پر قازقستان اپنے چینی شراکت داروں کے ساتھ مل کر علاقائی سطح کی جدید آمد و رفت اور سامان کی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لئے کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کے فریم ورک کے تحت دونوں ممالک ٹرانس کیسپین بین الاقوامی نقل و حمل کے راستے کو فروغ دے کر نئی ریلوے ٹرنک لائنیں تعمیر کر کے، ڈرائی پورٹس اور ذرائع نقل و حمل کے مراکز کو وسعت دے کر اور سرحدی بنیادی ڈھانچے کو جدید بنا کر ایشیا اور یورپ کے درمیان نقل و حمل کے منظر نامے کو نیا روپ دے رہے ہیں۔
ٹرانس کیسپین بین الاقوامی نقل و حمل کے راستے کے بارے میں بات کرتے ہوئے توکائیف نے کہا کہ یہ قازقستان-چین تعاون میں بنیادی ترجیح کی حیثیت رکھتا ہے اور چین و یورپ کو جوڑنے والی ایک اہم ٹرانسپورٹ راہداری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا مشترکہ ہدف اس راستے کی مسابقت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے۔ انہوں نے سمارٹ کسٹمز سسٹمز کے قیام، انفارمیشن سسٹمز کے درمیان باہمی ہم آہنگی بہتر بنانے اور سرحدی طریقہ کار کو خودکار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
توکائیف نے کہا کہ قازقستان-چین تعاون ایک نئی بلندی کی طرف گامزن ہے جس میں تعاون کا دائرہ کار حقیقی معیشت میں روایتی اشتراک سے بڑھ کر ڈیجیٹل معیشت میں شراکت داری تک پھیل رہا ہے۔


