ریاض (شِنہوا) سعودی عرب کے وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی عبداللہ السواحہ نے چین کی سائنسی و تکنیکی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کو چین کے ساتھ اپنی شراکت داری پر فخر ہے اور وہ چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لئے تیار ہے۔
السواحہ نے یہ بات ریاض میں پیر سے شروع ہونے والی لیپ 2026 ٹیک کانفرنس سے قبل ایک سرکاری پریس کانفرنس کے دوران شِنہوا کے ایک سوال کے جواب میں کہی۔
گزشتہ ماہ اپنے دورہ چین کا ذکر کرتے ہوئے السواحہ نے چین کی سائنسی و تکنیکی صلاحیتوں کو سراہا، بالخصوص مصنوعی ذہانت، ریاضی اور طبیعیات کے شعبوں میں اس کی پیش رفت کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ چین بنیادی علوم کو بہت اہمیت دیتا ہے اور وہاں ریاضی دانوں اور طبیعیات کے ماہرین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کی عالمی مسابقتی صلاحیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
السواحہ نے کہا کہ چین کی تکنیکی ترقی کو اکثر عالمی میڈیا میں بڑے پیمانے پر اجاگر کیا جاتا ہے اور اسے انہوں نے ’’علم اور تکنیکی ترقی کی ایک عظیم لہر‘‘ کا عکاس قرار دیا۔
السواحہ نے کہا کہ سعودی عرب نے چین سے بہت کچھ سیکھا ہے، وہ چین کے ساتھ اپنی شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مزید تعاون کا خواہاں ہے۔
لیپ ٹیک کانفرنس سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی سالانہ عالمی ٹیکنالوجی تقریب ہے، جس کا آغاز پہلی بار 2022 میں ہوا تھا۔
کانفرنس کا پانچواں ایڈیشن لیپ 2026 ’’نئی دنیا میں قدم‘‘ کے موضوع کے تحت 31 اگست سے 3 ستمبر تک منعقد ہو رہا ہے، جس میں متعدد چینی کمپنیاں شرکت کریں گی۔


