تہران (شِنہوا) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرے گا، تاہم واشنگٹن کے بارے میں محتاط رہے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ تہران اپنی ذمہ داریوں کو اسی صورت میں پورا کرے گا جب دوسرا فریق بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
پزشکیان نے ٹیلی وژن انٹرویو میں اس سوال پر ردعمل دیا جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا جاری سفارتی کوششیں جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی امن کی مفاہمتی یادداشت کو دوبارہ فعال کر سکتی ہیں اور ایرانی قوم کے حقوق بحال کر سکتی ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ اگر ایران کے اقدامات کے جواب میں دوسرا فریق بھی متناسب اور جوابی اقدامات کرے تو ’’ہم آگے بڑھ سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ممکن ہے دونوں فریق اپنے تمام مقاصد حاصل نہ کر سکیں۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ سے توقع تھی کہ وہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی اور تیل و پٹروکیمیکل شعبے پر عائد پابندیاں ختم کرے گا اور ایران کے منجمد اثاثے بھی جاری کرے گا۔
پزشکیان نے کہا کہ جس عرصے میں معاہدے پر عملدرآمد جاری تھا، ایران نے تقریباً 9 کروڑ بیرل تیل برآمد کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اس مفاہمتی یادداشت کی پابندی کرنی چاہیے جسے ہم نے تحریر کیا ہے۔ جب ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے تو ہم ان سے بات کر سکتے ہیں۔‘‘
18 جون کو امریکہ اور ایران نے لبنان سمیت خطے کے تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک کو حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لئے 60 دن کے اندر مذاکرات شروع کرنا تھے جس کی مدت 17 اگست کو ختم ہوگئی۔
تاہم گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد ان مذاکرات کا مستقبل اب بھی غیر واضح ہے۔
پزشکیان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کو اندرون ملک مسلسل معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔


