ماسکو (لارڈ میڈیا): روس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین نے روس پر حملے کے لیے برطانوی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کیے تو روس جوابی کارروائی کے طور پر یوکرین اور اس کی سرحدوں سے باہر برطانوی فوجی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے ماسکو میں پریس بریفنگ کے دوران برطانیہ کو یہ سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ روس برطانوی ہتھیاروں سے اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
زاخارووا نے کہا کہ اگر برطانوی ہتھیار استعمال کرتے ہوئے روسی سرزمین پر حملے جاری رہے تو یوکرین اور برطانوی تنصیبات روسی کارروائی کا ہدف بن سکتی ہیں۔ انہوں نے برطانیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ یوکرین کو جدید ہتھیار فراہم کرکے تنازع کو مزید خطرناک بنا رہا ہے اور برطانوی قیادت کو اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہیے۔
روس نے برطانیہ پر روسی شہریوں کے خلاف مبینہ حملوں میں شریک ہونے کا الزام بھی عائد کیا اور برطانوی قیادت کو پالیسی کے نتائج کا بغور جائزہ لینے کا مشورہ دیا۔
یہ وارننگ اس وقت سامنے آئی جب روس نے الزام عائد کیا کہ یوکرین نے ڈونیٹسک میں برطانوی میزائل سے حملہ کیا جس میں بچوں سمیت متعدد شہری زخمی ہوئے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اعلان کیا کہ برطانیہ یوکرین کو ایسی ٹیکنالوجی فراہم کرے گا جس سے یوکرین مقامی سطح پر میزائلوں کی پیداوار شروع کرسکے گا، جس سے روس اور برطانیہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔


