اوٹاوا (شِنہوا) کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ "جھیل اونٹاریو” نام ایک طویل تاریخ رکھتا ہے اور بیرونی تبدیلیوں سے قطع نظر کینیڈین ہمیشہ اسی نام کا استعمال کریں گے۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہ نام وینڈٹ زبان کے لفظ "اونٹاریو” سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے "جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے”۔
کینیڈین وزیراعظم نے یہ بیان اس وقت دیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کئے،جس کے تحت امریکی محکمہ داخلہ کو جھیل کا نام تبدیل کرکے "جھیل امریکہ”رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
دونوں ممالک 21 اگست کو تجارتی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے، جس کے بعد امریکہ نے 22 اگست کو تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔ کینیڈا نے بھی جوابی اقدام کرتے ہوئے امریکہ سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر "برابر مالیت”کے جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جو 8 ستمبر سے نافذ ہوں گے۔
وزیراعظم کارنی نے مزید کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے اور یہ کینیڈا کے وفاق کے قیام اور امریکہ کے اعلان آزادی سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تبدیل ہو رہا ہے۔ اس کے تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاریں اور جغرافیائی آبی نام بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ کینیڈین بھی جانتے ہیں کہ جھیل اونٹاریو کو اسی نام سے پکارنا ہے ، پہلے بھی، اب بھی اور ہمیشہ اسی نام سے پکارنا ہے۔
جھیل اونٹاریو شمالی امریکہ کی پانچ بڑی جھیلوں میں سے ایک ہے۔ یہ امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے، جس کے شمال میں کینیڈا کا صوبہ اونٹاریو اور جنوب میں امریکہ کی ریاست نیویارک واقع ہے۔


