ہومتازہ ترینچین عالمی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، اعلیٰ اقتصادی...

چین عالمی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، اعلیٰ اقتصادی منصوبہ ساز ادارے کا اعلان

بیجنگ (شِنہوا) چین کے اعلیٰ اقتصادی منصوبہ ساز ادارے کے ایک سينئر اہلکار نے کہا ہے کہ عالمی ترقی میں چین کی خدمات بالکل واضح ہیں اور اس کے مواقع تک سب کی رسائی ممکن ہے۔ انہوں نے ’چین کا معاشی دباؤ‘ کے نام سے پیش کئے جانے والے نام نہاد بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک ایسی سوچ پر مبنی چین مخالف حملہ اور بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا جس کے تحت ایک کے مفاد کو دوسرے کے نقصان سے جوڑا جاتا ہے۔

قومی ترقی و اصلاحات کمیشن کے ترجمان لی چھاؤ نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین نے ترقی پذیر ممالک کی صنعتی اور ماحول دوست ترقی میں مدد کے لئے ٹھوس اقدامات کے ذریعے ہمیشہ ’راہ ہموار کرنے‘ کا کام کیا ہے۔

لی نے کہا کہ ’’دنیا میں جدیدیت کا کوئی ایک ماڈل یا سب کے لئے یکساں قابل اطلاق جدیدیت کے معیارات موجود نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ گمراہ کن بیانیہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ تمام ممالک کو ایک ہی ماڈل اور معیارات کے تحت جدیدیت کی راہ اپنانا ہوگی، بصورت دیگر وہ دوسروں کی ترقی کی گنجائش محدود کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ منطق بالکل غلط ہے۔‘‘

لی چھاؤ کا کہنا تھا کہ چین نے محض چند دہائیوں میں صنعتی ترقی کا وہ سفر طے کیا جسے مکمل کرنے میں ترقی یافتہ ممالک کو کئی سو سال لگے۔ چین نے یہ ہدف اپنے قومی حالات کے مطابق ادارہ جاتی جدت طرازی اور ترقی کی سمت متعین کر کے حاصل کیا اور نہ صرف دیگر ترقی پذیر ممالک کے لئے قابل قدر مثال قائم کی بلکہ انسانیت کے لئے بہتر سماجی نظاموں کی تلاش میں چینی حل اور دانش کا بھی اشتراک کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین نے صنعتی پیداوار کا ایک موزوں تناسب برقرار رکھتے ہوئے اپنا صنعتی ڈھانچہ بہتر بنانے اور آگے بڑھانے کے لئے فعال کردار ادا کیا ہے۔ اس سے مصنوعات اور خدمات کے معیار اور تنوع میں اضافہ ہوا جس نے نہ صرف لوگوں کا معاشی تحفظ یقینی بنایا بلکہ اعلیٰ معیار کے روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے تاکہ تمام لوگوں تک صنعتی ترقی کے ثمرات زیادہ وسیع اور منصفانہ بنیادوں پر پہنچ سکیں۔

لی کے مطابق چین ہمیشہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی صنعتی و جدید ترقی کے سفر میں ایک ساتھی اور اپنے ترقیاتی مواقع کا اشتراک کرنے والا ملک رہا جو عملی اقدامات کے ذریعے تمام ممالک کو ان کے قومی حالات کے مطابق جدید ترقی کے راستے اختیار کرنے میں مدد دیتا ہے۔

لی نے بتایا کہ چین کی برآمد کردہ ماحول دوست توانائی کی مصنوعات نے عالمی سطح پر ہوا اور شمسی توانائی کی فی کلو واٹ آور لاگت میں بالترتیب 60 فیصد اور 80 فیصد سے زائد کمی کی ہے جس سے ماحول دوست توانائی میں تبدیلی کا عمل ترقی پذیر ممالک کی پہنچ میں آ گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے پہلے 7 مہینوں کے دوران 180 سے زائد ممالک اور خطوں کے ساتھ چین کی درآمدت و برآمدات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چین مستقبل میں بھی عالمی ترقی اور انسانی پیش رفت میں اپنا بڑا اور موثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں