اسلام آباد (لارڈ میڈیا): پیپلزپارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے وزارت صحت کو ختم کرنے یا صوبوں میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں وزارت صحت کا عوامی فنڈز لینے کا کوئی جواز نہیں رہا۔
شیری رحمان نے سیکرٹری جنرل پیپلزپارٹی نیئر بخاری کے ہمراہ پمز ہسپتال کا دورہ کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیری نے بتایا کہ دارالحکومت میں 14 نومولودوں کی اموات ہو چکی ہیں، جو ایک سنگین حادثہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ سیاست نہیں چمکانے آئے، بلکہ احتساب ضروری ہے۔ ان کی قیادت نے انہیں عوام کی طرف سے سوال پوچھنے کے لیے بھیجا ہے تاکہ ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جا سکے۔
شیری رحمان نے مزید کہا کہ حادثے کے بعد ہسپتال میں پانی نہیں تھا اور ایمرجنسی گیٹ بند تھے۔ ان کے مطابق، ڈاکٹر بھی موجود نہیں تھے اور بچوں کے والدین کے ساتھ تعاون نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم نے اس واقعے کا نوٹس لیا ہے اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو جواب دینا ہوگا۔
نیئر بخاری نے کہا کہ نظام کہیں چلتا ہوا نظر نہیں آتا اور وفاقی وزارت صحت دو ہسپتالوں کا انتظام بھی نہیں سنبھال سکی۔ ایسی صورتحال میں گڈ گورننس کیسے ممکن ہوگی۔


