بیجنگ (شِنہوا) چین کی مقررہ حجم سے زائد بڑی صنعتی کمپنیوں کے منافع میں 2026 کے پہلے 7 ماہ کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں 17.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ان صنعتی کمپنیوں، جن کی سالانہ بنیادی کاروباری آمدنی کم از کم 2 کروڑ یوآن (تقریباً 29 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر) ہے کا مجموعی منافع جنوری سے جولائی کے دوران 45.8 کھرب یوآن تک پہنچ گیا۔
تین بڑے صنعتی شعبوں میں کان کنی کی صنعت کے منافع میں 34.9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 666.05 ارب یوآن تک پہنچ گیا جبکہ پیداواری شعبے کے منافع میں 18.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 34.4 کھرب یوآن ہوگیا۔ تاہم بجلی، حرارت، گیس اور پانی کی پیداوار و فراہمی کے شعبے کے منافع میں 5.8 فیصد کمی ہوئی اور یہ 478.42 ارب یوآن رہا۔
اہم صنعتی شعبوں میں کمپیوٹر، مواصلاتی آلات اور دیگر الیکٹرانک آلات کی پیداوار کے منافع میں 110 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔ غیر فولادی دھاتوں کی پگھلائی اور رولنگ پروسیسنگ کے منافع میں 91.8 فیصد، کیمیائی خام مال اور مصنوعات کی پیداوار میں 56.6 فیصد جبکہ کوئلے کی کان کنی اور دھلائی کے شعبے میں 50.4 فیصد اضافہ ہوا۔ پٹرولیم، کوئلے اور دیگر ایندھن کی پروسیسنگ کا شعبہ خسارے سے نکل کر منافع میں آگیا۔
قومی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ پہلے 7 ماہ کے دوران صنعتی کمپنیوں کی مجموعی آمدنی 809.2 کھرب یوآن رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.5 فیصد زیادہ ہے جبکہ آپریٹنگ اخراجات 5.9 فیصد اضافے کے ساتھ 687.9 کھرب یوآن ہوگئے۔
قومی ادارہ شماریات کے شماریات دان یو وے ننگ نے منافع میں نسبتاً تیز رفتار اضافے کی وجہ صنعتی پیداوار میں استحکام اور نئے ترقیاتی شعبوں کی تیز رفتار ترقی کو قرار دیا۔
یو وے ننگ نے الیکٹرانکس کے شعبے کو صنعتی ترقی کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کے منافع میں 110 فیصد اضافہ ہوا، جس سے مجموعی صنعتی منافع کی شرح نمو میں 9.3 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
ہائی ٹیک کے پیداواری شعبے نے بھی مضبوط رفتار کا مظاہرہ کیا، جس کے منافع میں 50.1 فیصد اضافہ ہوا اور اس نے مجموعی صنعتی منافع کی شرح نمو میں 9.6 فیصد پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔ خام مال تیار کرنے والی صنعتوں کے منافع میں 55.2 فیصد اضافہ ہوا، جس سے مجموعی شرح نمو میں 7.1 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
یو وے ننگ نے بتایا کہ پہلے 7 ماہ کے دوران آمدنی پر منافع کی شرح 5.66 فیصد رہی جو 2023 کے بعد سے اسی عرصے کے لئے بلند ترین سطح ہے۔
تاہم یو وے ننگ نے خبردار کیا کہ عالمی ماحول اب بھی پیچیدہ اور مسائل سے دوچار ہے جبکہ ملکی سطح پر مضبوط رسد اور کمزور طلب کے درمیان عدم توازن بھی نمایاں ہے۔ انہوں نے ملکی طلب میں مزید توسیع، رسد کو بہتر بنانے اور روایتی صنعتوں کو بہتر بنانے، ابھرتے ہوئے شعبوں کی ترقی اور مستقبل کی صنعتوں کے فروغ کے لئے مزید اقدامات پر زور دیا تاکہ اعلیٰ معیار کی صنعتی ترقی کی بنیاد مزید مضبوط کی جاسکے۔
قومی ادارہ شماریات کے مطابق صرف جولائی میں بڑی صنعتی کمپنیوں کے منافع میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.2 فیصد اضافہ ہوا۔


