واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ایسے غیرملکیوں کے غیر امیگرنٹ ویزے منسوخ کرنے کے لیے مشترکہ کارروائی شروع کردی ہے جو مختصر مدت کے لیے امریکا آنے کے بعد پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے منگل کو بتایا کہ حکام ایسے افراد کی نشاندہی کر رہے ہیں جو وزیٹر ویزے پر امریکا آئے، تاہم بعد میں مستقل قیام کے لیے پناہ کی درخواست دائر کردی۔ ان کے مطابق وزیٹر ویزا اس شرط پر جاری کیا جاتا ہے کہ مسافر امریکا سے واپس چلا جائے گا، اس لیے پناہ کی درخواست دینا ویزا شرائط کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے اور ویزا منسوخی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ تقریباً 2 لاکھ غیرملکیوں کے کاروباری اور سیاحتی ویزے منسوخ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جنہوں نے پناہ کی درخواست دی ہے یا دینے کے عمل میں ہیں۔ یہ اقدام 2016 سے 2026 کے دوران جاری کیے گئے B1 اور B2 ویزوں سے متعلق بتایا جا رہا ہے۔
تاہم محکمہ خارجہ نے ویزا منسوخی کی حتمی تعداد نہیں بتائی۔ ترجمان کے مطابق یہ تعداد تبدیل ہوتی رہے گی اور ویزوں کی منسوخی مرحلہ وار کی جائے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد امریکی انتظامیہ نے امیگریشن پالیسی مزید سخت کردی ہے، جبکہ غیر دستاویزی تارکین وطن کے خلاف کارروائی اور ویزا رکھنے والے غیرملکیوں کی جانچ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق جنوری 2025 میں ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت شروع ہونے کے بعد سے 175 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب ہوم لینڈ سیکیورٹی نے H-1B ویزا پروگرام کے لیے درخواستوں پر ایک لاکھ 3 ہزار 265 ڈالر فیس عائد کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔


