ہومتازہ ترینچینی اے آئی تشخیصی ماڈل نے کلینیکل ٹرائل کے دوران جگر کے...

چینی اے آئی تشخیصی ماڈل نے کلینیکل ٹرائل کے دوران جگر کے کینسر کے 15 نظر انداز کیسز کی نشاندہی کر لی

بیجنگ (شِنہوا) چینی سائنس دانوں کی ایک ٹیم کی جانب سے تیار کردہ جگر کے سرطان کی تشخیص کرنے والے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل نے دو ماہ تک جاری رہنے والے حقیقی دنیا کے ممکنہ کلینیکل ٹرائل کے دوران سرطان کے 15 ایسے کیسز کی نشاندہی کی جن کی پہلے تشخیص نہیں ہو سکی تھی۔ اس کی مدد سے مریضوں کو بروقت سرجری یا ادویاتی علاج فراہم کرنے میں مدد ملی۔

چائنہ سائنس ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق جگر کے سرطان کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص ایک مشکل امر ہے۔ چونکہ زخموں کا حجم بہت چھوٹا ہوتا ہے اور وہ جگر کے سروسس، فیٹی لیور اور جگر کی پیچیدہ اندرونی ساخت کی وجہ سے باآسانی چھپ سکتے ہیں اس لئے تجربہ کار ڈاکٹر بھی کنٹراسٹ انہانسڈ سی ٹی سکینز پر انہیں نظر انداز کر سکتے ہیں۔

یہ صورتحال اس وقت مزید مشکل ہو جاتی ہے جب جسم کے کسی دوسرے حصے کا سرطان جگر تک پھیل جاتا ہے۔ ڈاکٹر کی توجہ بنیادی سرطان پر مرکوز ہونے کے باعث جگر میں موجود انتہائی چھوٹے میٹاسٹیسز نظر انداز ہو سکتے ہیں۔

علی بابا کی ڈیمو اکیڈمی نے چائنہ میڈیکل یونیورسٹی کے شینگ جنگ ہسپتال اور دیگر اداروں کے تعاون سے جگر کے سرطان کی تشخیص کے لئے اے آئی ماڈل ڈیمو لائن تیار کیا ہے جو سی ٹی تصاویر میں جگر کے انتہائی چھوٹے سرطان زدہ زخموں کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یہ ماڈل نہ صرف جگر کے بنیادی سرطان کی درست شناخت کر سکتا ہے بلکہ جگر کے ایسے میٹاسٹیسز بھی تلاش کر سکتا ہے جو باآسانی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔

تجربات سے ظاہر ہوا کہ مہلک رسولیوں کی شناخت میں ڈیمو لائن کی درستگی عمومی ریڈیالوجسٹ سے زیادہ تھی۔ جب ڈاکٹروں نے سکینز کا جائزہ لینے میں اس اے آئی ماڈل کی مدد لی تو تصاویر پڑھنے کا وقت 27 فیصد کم ہوا جبکہ مہلک رسولیوں کی شناخت کی حساسیت میں 11.5 فیصد اضافہ ہوا جس سے غلط تشخیص یا کیسز کے نظر انداز ہونے میں موثر کمی آئی۔ اے آئی کی معاونت سے جونیئر ڈاکٹر سینئر ڈاکٹروں کی سطح کی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے قابل ہوئے۔

2 ماہ پر محیط حقیقی دنیا کے ممکنہ طبی آزمائشی مرحلے کے دوران ڈیمو لائن نے 10 ہزار سے زائد مریضوں کے کنٹراسٹ انہانسڈ سی ٹی سکینز کا جائزہ لیا۔ اس کی مدد سے ڈاکٹروں نے جگر میں پھیلنے والے سرطان کے 15 ایسے کیسز کی نشاندہی کی جو پہلے نظر انداز ہو گئے تھے جس کے نتیجے میں ان مریضوں کے علاج کے منصوبوں میں تبدیلی کی گئی۔

یہ تحقیق حال ہی میں جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں