ہومتازہ ترینتنزانیہ کے صدر نے چین کی معاونت سے تعمیر کردہ ہائیڈرو پاور...

تنزانیہ کے صدر نے چین کی معاونت سے تعمیر کردہ ہائیڈرو پاور پلانٹ کا افتتاح کر دیا

دارالسلام (شِنہوا) تنزانیہ کی صدر سامعہ سلوحو حسن نے 2 ہزار 115 میگاواٹ کے جولیس نیئررے ہائیڈرو پاور پلانٹ کا افتتاح کر دیا۔ یہ ایک اہم منصوبہ ہے جس سے بجلی کی فراہمی کو مضبوط بنانے اور صنعتی و معاشی ترقی کو تیز کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

تنزانیہ کی صدر سامعہ سلوحو حسن تنزانیہ کے کوسٹ ریجن میں جولیس نیئررے ہائیڈرو پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہی ہیں۔(شِنہوا)

حسن نے کوسٹ ریجن کے روفیجی ضلع میں اس پلانٹ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ بجلی پیدا کرنے کی نئی صلاحیت سے مینوفیکچرنگ، تجارت، کان کنی، جدید زراعت، عوامی خدمات، سرمایہ کاری اور روزگار کے شعبوں میں نمایاں بہتری آنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 9 یونٹس پر مشتمل یہ پاور پلانٹ اب تنزانیہ کے قومی گرڈ میں فراہم کی جانے والی بجلی کا تقریباً نصف حصہ فراہم کرتا ہے، جس سے بجلی کی فراہمی کے قابل اعتماد ہونے اور تحفظ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

حسن نے کہا کہ "اس منصوبے نے تنزانیہ کی صلاحیتوں کو ثابت کر دیا ہے۔ اب ہمیں اس صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے دیگر سٹریٹجک منصوبوں کو آگے بڑھانا اور ایک مضبوط اور خود کفیل ملک کی تعمیر کرنا ہوگی۔”

پاور چائنہ کے پراجیکٹ منیجر ژانگ روئی نے بتایا کہ پاور کنسٹرکشن کارپوریشن آف چائنہ (پاور چائنہ) اور ڈونگ فینگ الیکٹرک کارپوریشن کی شراکت سے تعمیر کئے گئے اس پلانٹ کی مجموعی نصب شدہ پیداواری صلاحیت 2 ہزار 115 میگاواٹ ہے۔

ژانگ نے بتایا کہ پاور چائنہ نے مرکزی تعمیراتی کام انجام دیئے، جن میں مرکزی ڈیم، سٹیلنگ بیسن، پانی کی ترسیل کا نظام، پانی کی منتقلی کی سرنگیں اور دھاتی ڈھانچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنی نے مجموعی انجینئرنگ ڈیزائن اور معاون سہولیات کی تیاری کا کام بھی انجام دیا۔

ڈونگ فینگ الیکٹرک کے پراجیکٹ منیجر تان جن نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے تمام 9 ہائیڈرو ٹربائن جنریٹر یونٹس، مرکزی ان لیٹ والوز اور دیگر مکمل برقی و میکانی آلات فراہم کئے، جبکہ ان کی تنصیب، حوالگی اور آزمائشی آپریشن بھی انجام دیا۔

دونوں پراجیکٹ منیجرز کے مطابق تعمیر کے دوران چین کی شمولیت سے ہونے والے تعمیراتی کاموں نے مقامی آبادی کے لئے روزگار کے تقریباً 14 ہزار مواقع پیدا کئے۔ تنزانیہ کے ہزاروں شہریوں نے چینی انجینئرز سے ویلڈنگ، سریا باندھنے، بڑھئی کے کام، بھاری مشینری چلانے اور سروے سمیت مختلف شعبوں میں پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی، جس سے مقامی افرادی قوت کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملی۔

تنزانیہ کی دارالسلام یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے پروفیسر ہمفرے موشی نے کہا کہ اس منصوبے سے گھریلو صارفین اور عوامی خدمات کے لئے بجلی کی فراہمی بہتر ہونے، مشرقی افریقہ کی توانائی کی علاقائی منڈی میں تنزانیہ کے کردار کو مضبوط بنانے اور علاقائی روابط و سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے قابل اعتماد توانائی کی فراہمی میں مدد ملنے کی بھی توقع ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں