ہوماہم ترینحکومت نے عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی پر نظرثانی کی درخواست...

حکومت نے عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی پر نظرثانی کی درخواست دائر کردی

اسلام آباد (لارڈ میڈیا) حکومت نے عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کے عدالتی حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کی ہے، جسے قانونی اختیار سے تجاوز قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان پریزن رولز 1978 کے تحت قیدی کو سرکاری اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے، نجی اسپتال کی اجازت نہیں۔

حکومت کے مطابق جیل قوانین یا پریزنز ایکٹ میں قیدی کو اپنی پسند کے نجی ڈاکٹر سے علاج کرانے کا حق موجود نہیں ہے۔ نظرثانی درخواست میں 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، اور کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ قانونی و آئینی دائرہ اختیار سے متعلق ہے۔

حکومت نے کہا ہے کہ عمران خان کی اپیل پہلی بار سماعت کے لیے مقرر ہوئی تھی اور انہیں نوٹس نہیں دیا گیا، اس کے باوجود عبوری حکم جاری کر دیا گیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ طبی رپورٹ کی بنیاد پر صحت بگڑنے کا تاثر لیا گیا حالانکہ رپورٹ میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عبوری مرحلے پر عمران خان کی چاروں درخواستیں منظور کی گئیں، جن میں شفا اسپتال منتقلی، ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی، اہل خانہ سے ملاقات اور طبی رپورٹیں وکیل کو فراہم کرنے کی اجازت شامل تھیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نجی اسپتال کی خصوصی سہولت دیگر قیدیوں کے لیے مثال بن سکتی ہے اور جیل قوانین کے تحت اسی نوعیت کے مطالبات بڑھ سکتے ہیں۔ حکومت نے سپریم کورٹ سے 18 اگست کے حکم پر نظرثانی کی استدعا کی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں