نیو یارک (شِنہوا) ایک سروے کے مطابق مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث زندگی گزارنے کے اخراجات میں اضافے پر صارفین کی تشویش کے نتیجے میں اگست میں امریکی صارفین کے اعتماد میں جولائی کے مقابلے میں نمایاں کمی ہوئی۔
یونیورسٹی آف مشی گن(یو ایم) کے سروے آف کنزیومرز کی جانب سے جاری کئے گئے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق صارفین کے اعتماد کا اشاریہ جولائی کی حتمی سطح 55.2 سے کم ہو کر اگست میں 51 پر آ گیا۔ اس طرح مسلسل 2 ماہ کی بہتری کا سلسلہ ختم ہوگیا اور یہ 54.2 کی متوقع سطح سے بھی کم رہا۔ مئی میں مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث یہ اشاریہ ریکارڈ کم سطح 44.8 تک گر گیا تھا۔
سروے کے مطابق موجودہ معاشی حالات کا اشاریہ بھی اگست میں کم ہو کر 51.8 رہ گیا جو جولائی میں 54.8 اور ایک سال قبل 61.7 تھا۔
دریں اثنا اس ماہ صارفین کی توقعات کا اشاریہ بھی کمزور ہوا اور 50.6 پر آ گیا جبکہ جولائی میں یہ 55.4 اور اگست 2025 میں 55.9 تھا۔
سروے میں بتایا گیا کہ اگلے ایک سال کے دوران مہنگائی کی توقعات جولائی کی 4.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 4.3 فیصد ہوگئیں جبکہ طویل مدتی مہنگائی کی توقعات 3.3 فیصد پر بدستور برقرار رہیں۔
سروے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ ماہ کے آغاز میں صارفین کے اعتماد میں کمی مختلف آبادیاتی گروہوں میں وسیع پیمانے پر دیکھی گئی تاہم بڑی عمر کے صارفین، کم آمدنی والے صارفین اور کالج کی ڈگری نہ رکھنے والے افراد میں یہ کمی خاص طور پر نمایاں رہی۔
سروے کی ڈائریکٹر اور یونیورسٹی آف مشی گن کی ماہر اقتصادیات جوان ہسو نے کہا کہ ’’یہ تمام گروہ مہنگائی کے باعث قوت خرید میں کسی بھی کمی کے حوالے سے خاص طور پر کمزور ہیں۔‘‘
امریکی ادارہ شماریات کی جانب سے جمعہ کو جاری کی گئی ایک علیحدہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی پرچون فروخت میں 9 ماہ کے دوران پہلی مرتبہ ماہانہ بنیادوں پر کمی ریکارڈ کی گئی۔


