بیجنگ (شِنہوا) سمندری طوفان ڈولفن کے باعث شدید بارشوں نے منگل کے روز چین کے اکثر حصوں کو متاثر کیا جس کے باعث بیجنگ، پڑوسی شہر تیانجن اور وسطی و مشرقی صوبوں میں سیلاب سے نمٹنے کے لئے ہنگامی اقدامات بڑھا دیئے گئے، ٹرینیں معطل کر دی گئیں اور سیلاب سے خبردار کر دیا گیا ہے۔
بیجنگ نے منگل کی صبح 9 بجے سیلاب سے نمٹنے کے لئے دوسرے درجے کے ہنگامی اقدامات نافذ کر دیئے جو دوسرا اونچی سطح کا انتباہ ہے۔ حکام نے شدید بارشوں کے ساتھ شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کیا ہے۔
بیجنگ کے محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات تک دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں 6 گھنٹے کے دوران 100 ملی میٹر سے زائد اور 24 گھنٹے کے اندر 150 ملی میٹر سے زائد بارش متوقع ہے۔
شہر نے 23 ہزار سے زائد ایمرجنسی اہلکاروں اور 2 ہزار سے زائد مشینری و گاڑیوں کو متحرک کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں سیلاب کے خدشے سے دوچار علاقوں میں ہنگامی گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے زمین سے اوپر 77 سڑکیں اور پارکنگ کی 182 سہولیات کھولی گئی ہیں۔
صوبائی موسمیاتی ادارے نے منگل کی شام 5 بجے بارش کا انتباہ زرد سے بڑھا کر نارنجی کر دیا کیونکہ دریائے زرد کے جنوبی حصے کے ایک بڑے علاقے میں پہلے ہی شدید بارش سے جل تھل ایک ہو چکا تھا۔ ژومادیان شہر کی کاؤنٹی چھوئے شان میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران سب سے زیادہ 286.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
صوبے ہوبے میں بھی ریل سروس متاثر ہوئی جہاں وسطی اور شمالی علاقوں میں انتہائی شدید بارش ہوئی۔ چائنہ ریلوے ووہان گروپ نے منگل کو متعدد ٹرین خدمات عارضی معطل کر دیں جن میں ووہان، ہانکو اور ووچھانگ کو بیجنگ، شی آن اور دیگر شہروں سے جوڑنے والی ٹرینیں شامل ہیں۔ جمعہ تک کئی اہم ریلوے لائنوں پر مزید عارضی معطلی متوقع ہے۔
چین کے مشرقی صوبے آنہوئی میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ دریائے پی حہ میں لو آن کے ایک سٹیشن پر منگل کی صبح پانی کی سطح انتباہی حد تک پہنچنے کے بعد 2026 کا پہلا سیلاب قرار دیا گیا۔
صبح 6 بجے تک آنہوئی میں 5 بڑے ڈیم، 14 درمیانے حجم کے ڈیم اور 666 چھوٹے ڈیم سیلاب سے بچاؤ کی طے شدہ حد سے اوپر بہہ رہے تھے اور حفاظت کے طریقہ کار کے مطابق پانی کا اخراج کیا جا رہا تھا۔


