ہوماہم ترینسعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ میں...

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ میں بدلتی سلامتی کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، تجزیہ کار

استنبول (شِنہوا) تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ خطے کی طاقتیں اپنے سلامتی کے انتظامات میں زیادہ خودمختاری کی خواہاں ہیں۔

سعودی شہر مکہ میں جمعہ کے روز دستخط کئے گئے معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو ان سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

دستخط کی تقریب کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ یہ معاہدہ ’’اجتماعی دفاعی صلاحیت‘‘ اور اقوام متحدہ کے منشور کی شق 51 کے تحت حق دفاع پر مبنی ہے۔ ترک وزیر خارجہ حاکان فدان نے مقامی میڈیا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں معاہدے کی باہمی دفاع کی شق کو اس کی اہم دفعات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے اجتماعی دفاع سے متعلق آرٹیکل 5 کے عین مطابق ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق معاہدے کی عبارت سے قطع نظر یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کے سلامتی کے ڈھانچے، بالخصوص امریکہ کے کردار پر وسیع تر نظرثانی کی علامت ہے۔

ترکیہ کی مارمرا یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر باریش دوستر نے کہا کہ یہ اقدام خطے کے بدلتے ہوئے نظام کا براہ راست ردعمل ہے۔

دوستر نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’امریکہ، اسرائیل اور ایران سے متعلق حالیہ پیش رفت کے ساتھ انقرہ، ریاض اور اسلام آباد کے درمیان سفارتی قربت میں تیزی آئی ہے۔ ضروریات بدلتی ہیں اور نتیجتاً اتحاد بھی بدلتے ہیں۔ اس نئے معاہدے کا بنیادی طور پر جائزہ خطے کی طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کے تناظر میں لیا جانا چاہیے۔‘‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان علاقائی تنازع نے موجودہ سلامتی کے نظام کی کمزوریوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد تقریباً تمام خلیجی ممالک، جن کے امریکہ کے ساتھ فوجی تعلقات ہیں، تنازع میں شامل ہو گئے۔

استنبول آئیدین یونیورسٹی کی سکالر کانان ترجان نے کہا کہ اس تنازع نے ظاہر کر دیا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کو مکمل طور پر تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’ہاں، یہاں امریکی اڈے موجود ہیں، لیکن انہوں نے کتنا تحفظ فراہم کیا؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ علاقائی ممالک کو نئی شراکت داریوں کے ذریعے اس کمزوری پر قابو پانا پڑا۔ ہم بنیادی طور پر اسے مکہ معاہدے کی اہم وجوہات میں سے ایک قرار دے سکتے ہیں۔‘‘

بحرین کے شہر حمد ٹاؤن میں شہری دفاع کا ایک رکن ایرانی ڈرونز کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے سے لگنے والی آگ بجھا رہا ہے۔(شِنہوا)

اس پس منظر میں یہ معاہدہ علاقائی ممالک میں تزویراتی خودمختاری پر بڑھتے ہوئے زور کو اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ اردوان نے زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ ’’کسی ملک کے خلاف نہیں‘‘ اور اس کا مقصد تصادم کے بجائے دفاعی صلاحیت ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ علاقائی قوتوں کی جانب سے طاقت کے علاقائی توازن کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوشش بھی ہے۔

دوستر کے مطابق علاقائی توازن اس معاہدے کا بنیادی محرک ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ’’یہ معاہدہ بنیادی طور پر ایران کے علاقائی وزن اور اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔‘‘

سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے نے ایران کے ساتھ ریاض کی قربت کو بھی آزمایا ہے، جو حوثیوں کی حمایت کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ خطے کے لئے معاہدے کے سیاسی اثرات کو کم نہیں سمجھنا چاہیے، تاہم اس پر موثر عملدرآمد کے امکانات ابھی غیر یقینی ہیں اور متعدد انتظامی و قانونی مراحل ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

حالیہ دنوں میں حوثیوں نے معاہدے کے ایک فریق سعودی عرب پر متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم معاہدے کے دیگر فریقوں نے براہ راست مداخلت سے گریز کیا ہے، جس سے ترجان کے مطابق ظاہر ہوتا ہے کہ اجتماعی دفاع کی شق ہر واقعے پر خودکار طور پر فوجی ردعمل کو متحرک نہیں کرتی۔

ترجان نے کہا کہ اس شق کا مطلب معمولی واقعات پر خودکار فوجی ردعمل نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترک فوج کی شرکت کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری لازمی ہوگی، نہ کہ فوری طور پر فوجی تعیناتی کی جائے گی۔

قانون سازی کے مراحل کے علاوہ ماہرین نے اتحاد کی تزویراتی خودمختاری برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

ترک سکیورٹی ماہر عبداللہ آغر نے بیرونی مداخلت سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تینوں دستخط کنندگان کو اپنی تزویراتی خودمختاری برقرار رکھنی چاہیے اور بڑی طاقتوں کے مفادات کے تحت پیدا ہونے والے مہنگے تنازعات میں الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔

چین کی شنگھائی انٹرنیشنل سٹڈیز یونیورسٹی کے مشرق وسطیٰ مطالعاتی ادارے کے ایسوسی ایٹ پروفیسر باؤ چھینگ ژانگ نے کہا کہ معاہدے کو مستقبل میں عملدرآمد کے دوران متعدد چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، جن میں تینوں ممالک کی سلامتی سے متعلق ترجیحات میں اختلافات، امریکہ کا دباؤ اور علاقائی تنازع میں ہونے والی پیش رفت سمیت دیگر عوامل شامل ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں