کراچی (لارڈ میڈیا): اداکارہ زارا نور عباس نے بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر پاکستان کے موجودہ حالات کو بدترین وقت قرار دیا ہے۔ انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری میں کہا ہے کہ مسئلہ صرف زیادتی اور قتل کے واقعات نہیں، بلکہ ان جرائم پر کوئی مثال قائم نہ ہونے کے باعث مجرموں کے حوصلے بڑھ رہے ہیں۔
اداکارہ نے کہا کہ یہ واقعات اس قدر عام ہو چکے ہیں کہ اب یہ مسئلہ کسی ایک صنف تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ والدین اپنے بچوں کی حفاظت کیسے کریں اور کیا قانون کو ہاتھ میں لینا ہی واحد راستہ رہ گیا ہے؟ انہوں نے قانون کے غیر سنجیدہ رویے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
زارا نور عباس نے میر رضا علی کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لاش کی دوبارہ قبر کشائی کے بعد پوسٹ مارٹم میں انکشاف ہوا کہ مقتول کو گولی مارنے کے ساتھ تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا، حالانکہ اسے پہلے خودکشی قرار دیا جا رہا تھا۔
انہوں نے کراچی میں ایک کمسن بچی کے ریپ اور قتل کے واقعے پر تشویش ظاہر کی، جہاں ملزم کی کم عمری کے باعث اسے ذہنی معاونت دینے کی بات کی جا رہی ہے۔ اداکارہ نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں والدین اپنے بچوں کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں جبکہ یہ افسوسناک واقعات شہر میں خوف و ہراس کا سبب بن رہے ہیں۔


