بیجنگ (شِنہوا) چین کے جنوب سے شمال تک آبی منتقلی کے منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت مشرقی اور وسطی راستوں کے ذریعے پیر تک مجموعی طور پر 90 ارب مکعب میٹر سے زائد پانی منتقل کیا جا چکا ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے آبی منتقلی کے منصوبے کے لئے ایک نیا سنگ میل ہے۔
چین کی وزارت آبی وسائل اور چائنہ ساؤتھ ٹو نارتھ واٹر ڈائیورژن کارپوریشن لمیٹڈ کے مطابق وسطی راستے کے ذریعے 80.05 ارب مکعب میٹر سے زائد جبکہ مشرقی راستے کے ذریعے 9.95 ارب مکعب میٹر سے زیادہ پانی منتقل کیا جا چکا ہے۔
2014 میں مشرقی اور وسطی راستوں کے پہلے مرحلے کے مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سے اس منصوبے نے 48 بڑے شہروں کو پانی کی مستحکم اور معیاری فراہمی یقینی بنائی ہے، جس سے 19 کروڑ 50 لاکھ افراد مستفید ہوئے ہیں۔
اس منصوبے کے پہلے مرحلے نے ماحولیاتی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ راستوں کے ساتھ 50 سے زائد دریاؤں میں ماحولیاتی ضروریات پوری کرنے کے لئے 13.1 ارب مکعب میٹر سے زائد پانی منتقل کیا گیا ہے۔
قومی آبی نیٹ ورک کی ریڑھ کی ہڈی اور اہم شریان کے طور پر جنوب سے شمال تک پانی کی منتقلی کا منصوبہ آبی وسائل کی تقسیم کو بہتر بنانے، پینے کے پانی کے تحفظ کو یقینی بنانے، دریاؤں اور جھیلوں کے ماحولیاتی نظام کی بحالی اور معیشت کو فروغ دینے میں مسلسل بڑھتا ہوا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
چین بنیادی ڈھانچے کے 6 بڑے نیٹ ورکس کی تعمیر کے لئے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے، جن میں آبی نیٹ ورک کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ قومی آبی نیٹ ورک کا مرکزی ڈھانچہ مسلسل بہتر ہونے کے ساتھ اس منصوبے کے جامع فوائد میں مزید وسعت آنے کی توقع ہے۔


