شہر (لارڈ میڈیا): ماہرینِ فلکیات نے کائنات کا اب تک کا سب سے بڑا رنگین نقشہ جاری کر دیا ہے، جس میں تقریباً 4 ارب ستارے، کہکشائیں اور دیگر اجسام فلکی شامل ہیں۔ یہ نقشہ ڈی ای ایس آئی لیگیسی امیجنگ سرویز کی ٹیم کی جانب سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں 5.6 ٹریلین پکسلز شامل ہیں۔ نقشے کا ڈیٹا عام لوگوں، ماہرینِ فلکیات اور سٹیزن سائنس دانوں کے لیے بھی دستیاب ہے، جسے آن لائن لیگیسی سروے اسکائی ویوور کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔
نئی تفصیلی تصویر کی مدد سے سائنس دان کائنات میں موجود نایاب مظاہر کی تلاش کر سکیں گے، جن میں گریویٹیشنل لینزنگ اور مختصر مدت کے لیے نمودار ہونے والے واقعات، جیسے سپرنووا شامل ہیں۔ اس نقشے سے سائنس دان کائنات کے دو بڑے معموں کو سمجھنے میں بھی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ اول، ڈارک میٹر جو کائنات کے بیشتر مادّے کی کمیت کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اور دوم ڈارک انرجی جو کائنات کے مسلسل تیز رفتار پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہے۔
یہ نقشہ ڈی ای ایس آئی لیگیسی امیجنگ سرویز کی کے سابقہ ڈیٹا پر مبنی ہے جو پہلے ہی فلکیاتی تحقیق میں انتہائی اہم ثابت ہو چکا ہے۔ اب تک 1800 سے زائد سائنسی تحقیقی مقالے لیگیسی سرویز کے ڈیٹا کو استعمال یا حوالہ دے چکے ہیں۔ سائنس دان ڈیوڈ شلیگل کے مطابق یہ ڈیٹا اب فلکیاتی تحقیق کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے اور ماہرین اکثر کسی خلائی جرم کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے لیگیسی امیجنگ ویوور پر اسے دیکھتے ہیں۔
نئی نقشہ سازی سے سائنس دانوں کو کائنات کے وسیع ڈھانچے، اس میں موجود اربوں اجرام اور اس کے بنیادی رازوں کو مزید بہتر انداز میں سمجھنے کا ایک غیر معمولی موقع مل گیا ہے۔


