ہوماہم ترینشپلو میسی: شی جن پھنگ نے چینی سفارت کاری میں مزید گرمجوش...

شپلو میسی: شی جن پھنگ نے چینی سفارت کاری میں مزید گرمجوش اور ذاتی رنگ بھرا

بیجنگ (شِنہوا)’’دوستی ایک بامعنی چیز کے ساتھ قائم رہتی ہے، امن کی دنیا لازماً دوستی کی دنیا ہونی چاہیے۔‘‘

چینی صدر شی جن پھنگ نے ایک مرتبہ ایک غیر ملکی دوست کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے دوستی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کے نزدیک عوامی سطح پر دوستی مستحکم اور پائیدار بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد، عالمی امن و ترقی کے فروغ کے لئے ناقابل تنسیخ قوت اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے لئے بنیادی شرط ہے۔

رواں سال جشن بہار کے موقع پر شی جن پھنگ نے امریکی ریاست آئیووا کے اپنے دوستوں کے خط کا جواب دیتے ہوئے انہیں چینی نئے سال کی مبارک باد کا کارڈ بھیجا۔ اس طرح مسلسل تیسرے سال ان کے درمیان نئے سال کی مبارک باد کا گرمجوش تبادلہ جاری رہا۔ آئیووا کے 41 سال قبل اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے شی نے کہا کہ وہاں ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا تھا اور ان خوبصورت یادوں کی تازگی آج بھی ان کے ذہن میں برقرار ہے۔

1985 میں شی جن پھنگ، جو اس وقت چین کے شمالی صوبہ ہیبے کی جنگ ڈنگ کاؤنٹی کے ایک عہدیدار تھے، ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے آئیووا گئے تھے۔ یہ ان کا امریکہ کا پہلا دورہ تھا۔

دورے کے موقع پر انہوں نے مشرقی دیہی آئیووا کے شہر مسکاٹائن کا دورہ کیا، جہاں وہ مقامی خاندان تھامس اور ایلینور ڈوورچک کے ہاں مقیم رہے۔ اس قیام نے ان پر گہرا اثر چھوڑا۔

کئی دہائیوں بعد اس دورے کو یاد کرتے ہوئے شی نے کہا کہ انہیں آج بھی اپنے قیام کی جگہ ’’2911 بونی ڈرائیو‘‘ یاد ہے۔ شی نے کہا کہ ’’امریکیوں کے ساتھ یہ میرا پہلا بالمشافہ رابطہ تھا۔ میرے لئے وہ امریکہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘‘

یہ پرانے دوست 2023 میں اس وقت دوبارہ ملے جب شی ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون (اپیک) کے رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کے لئے سان فرانسسکو گئے۔ جب شی نے ڈوورچک خاندان کے بیٹے گیری کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ ’’میں تمہارے کمرے میں ٹھہرا تھا اور مجھے وہاں موجود سویٹ شرٹس اور کھیلوں کا سامان یاد ہے۔‘‘

گیری نے اس ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہاں حقیقی خوشی تھی، آپ ان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ سکتے تھے۔ وہ واقعی اس لمحے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔‘‘

گزشتہ برسوں کے دوران شی جن پھنگ نے پرانے غیر ملکی دوستوں سے دوبارہ رابطہ قائم کرکے چینی سفارت کاری میں مزید گرمجوش اور ذاتی رنگ شامل کیا ہے۔ انہوں نے ملاقاتوں اور خطوط کے ذریعے دنیا بھر کے دوستوں کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے ہیں اور اس دوران بے شمار پرخلوص اور جذباتی لمحات رقم ہوئے ہیں۔

2014 میں شی آسٹریلیا کی ریاست تسمانیہ گئے اور اپنے دیرینہ دوست اور تسمانیہ کے مرحوم وزیراعلیٰ جم بیکن کے خاندان سے ملاقات کی، یوں انہوں نے برسوں قبل کئے گئے ایک وعدے کو پورا کیا۔

بیکن کی بیوہ ہنی بیکن نے شی کو بتایا کہ ان کے شوہر طویل عرصے سے ان کے دورے کے منتظر تھے۔ شی نے کہا کہ ’’بیکن نے اس وقت مجھے تسمانیہ آنے کی دعوت دی تھی اور میں نے اتفاق کیا تھا۔ آج میں یہاں ان سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کرنے آیا ہوں۔‘‘

چین کے صدر شی جن پھنگ آسٹریلیا کی ریاست تسمانیہ میں آنجہانی وزیراعلیٰ جم بیکن کے اہل خانہ سے ملاقات کر رہے ہیں۔(شِنہوا)

دونوں کی پہلی ملاقات 1999 میں ہوئی، جب بیکن نے چین کے مشرقی صوبے فوجیان کا دورہ کیا اور اس وقت صوبے کے قائم مقام گورنر شی جن پھنگ نے ان کا استقبال کیا۔ دونوں کے درمیان فوراً دوستانہ تعلق قائم ہوگیا۔ بیکن نے انہیں ’’غیر معمولی شخصیت‘‘ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی کہا کہ وہ ایک پرانے دوست کی طرح شفیق اور ملنسار ہیں۔

2001 میں شی جن پھنگ کی دعوت پر بیکن نے ایک اور وفد کی قیادت کرتے ہوئے فوجیان کا دورہ کیا۔ دورے کے موقع پر جب شی جن پھنگ کو معلوم ہوا کہ بیکن کو ’’دی ویوز آف گولانگ یو‘‘ نامی گانا پسند ہے تو انہوں نے انہیں اس گانے کی ایک ٹیپ بطور تحفہ پیش کی۔ جواباً بیکن نے شی جن پھنگ کو تسمانیہ آنے اور ’’سیر کرنے اور یہاں کا نظارہ کرنے‘‘ کی دعوت دی، جسے شی جن پھنگ نے خوشی سے قبول کر لیا۔

تاہم یہ دونوں کی آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ بیکن 2004 میں علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

2014 میں شی جن پھنگ کے تسمانیہ کے دورے میں بیکن کے اہل خانہ نے انہیں بیکن کے چین کے دوروں کے دوران لی گئی تصاویر دکھائیں۔ دونوں کی تصاویر دیکھ کر شی جن پھنگ نے جذباتی انداز میں کہا، ’’میں بھی یہ تصاویر محفوظ رکھتا ہوں۔‘‘

شی جن پھنگ کے لئے ایسی دوستیاں کبھی وقت یا فاصلے کی پابند نہیں رہیں۔ انہوں نے طویل عرصے سے عوامی دوستی اور عوام کے درمیان قریبی روابط کو بہت اہمیت دی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ عوام کے درمیان دوستانہ تعلقات ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کی بنیاد ہیں، جبکہ عوامی روابط ریاستی تعلقات کے فروغ کا سنگ بنیاد ہیں۔

رواں سال چین اور لاؤس کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 65ویں سالگرہ کے ساتھ ساتھ چین-لاؤس دوستی کا سال بھی منایا جا رہا ہے۔ دوطرفہ تجارت، اقتصادی تعاون اور عوامی تبادلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والی چین-لاؤس ریلوے بھی اپنے آپریشن کے پانچ سال مکمل ہونے کا جشن منا رہی ہے۔

لاؤ عوام کی اس خواہش کی عکاسی کرتی یہ ریلوے کہ ان کا ملک خشکی میں گھرے ملک سے زمینی رابطوں کے حامل مرکز میں تبدیل ہو، شی جن پھنگ کے پیش کردہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ یہ چین اور لاؤس کے رہنماؤں کی جانب سے برسوں کے دوران پروان چڑھائی جانے والی دیرینہ دوستی اور قریبی ذاتی روابط کا بھی ثبوت ہے۔

چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے شہر کونمنگ سے روانہ ہونے والی چین-لاؤس ریلوے کی ایک ٹرین لاؤس کے دارالحکومت وینتیان پہنچ رہی ہے۔(شِنہوا)

لاؤس کے وزیر برائے عوامی تعمیرات و ٹرانسپورٹ کے طور پر خدمات انجام دینے والے سوماد پھولسینا نے چین-لاؤس ریلوے کی تعمیر میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’لاؤ عوام طویل عرصے سے ریلوے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو ہی نے چین-لاؤس ریلوے کو ممکن بنایا۔‘‘

سوماد، شی جن پھنگ کے ہم جماعت رہے ہیں۔ وہ آنجہانی کوئینِم پھولسینا کے بیٹے ہیں، جو ایک انقلابی رہنما تھے اور 1962 سے 1963 تک لاؤس کے وزیر خارجہ رہے۔ پھولسینا کے کئی بچے 1960 کی دہائی میں بیجنگ کے بائی سکول میں مقیم اور زیر تعلیم رہے، جہاں شی جن پھنگ بھی طالب علم تھے۔

شی جن پھنگ کے 2010 میں چینی نائب صدر کی حیثیت سے اور 2017 میں صدر کی حیثیت سے لاؤس کے دوروں کے دوران انہوں نے اپنے دوست پھولسینا خاندان سے ملاقات اور سابق ہم جماعتوں سے دوبارہ ملنے کے لئے وقت ضرور نکالا۔ شی جن پھنگ نے ان سے کہا کہ ’’چاہے کچھ بھی ہو، مجھے آپ سے ملنے کے لئے وقت نکالنا ہی تھا۔‘‘

سوماد نے کہا کہ صدر شی ایک سچے دوست ہیں جو دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

انہیں شی جن پھنگ کے یہ الفاظ بھی یاد ہیں کہ چین-لاؤس ریلوے کی بدولت کونمنگ سے وینتیان تک کا پہاڑ اب بلند نہیں رہا اور راستہ اب طویل نہیں رہا۔

دیرپا دوستی باہمی مفاہمت، احترام اور خلوص پر قائم ہوتی ہے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ ’’صرف اس وقت جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خلوص سے پیش آئیں، دوستی قائم رہ سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’عوام کے درمیان دوستی کی بے شمار چھوٹی ندیاں مل کر ایک ایسی طاقت بن جاتی ہیں جو عالمی امن و ترقی کو آگے بڑھاتی اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تعمیر کرتی ہے۔‘‘

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں