جوبا (شِنہوا) جنوبی سوڈان میں چین کے سفارت خانے نے چین کے تعاون سے مکمل ہونے والا پانی کے کنوؤں کی کھدائی اور پانی کی فراہمی کا منصوبہ جنوبی سوڈان کی حکومت کے حوالے کر دیا جس کا مقصد سنٹرل ایکویٹوریا اور لیکس ریاستوں میں پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانا ہے۔
جنوبی سوڈان کے وزیر برائے آبی وسائل و آبپاشی جیمز ماوچ ماکواچ نے منصوبے کی حوالگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث جنوبی سوڈان کے بعض علاقے سیلاب اور خشک سالی کا شکار ہیں جبکہ پینے کے صاف پانی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چائنہ جیانگ شی انٹرنیشنل اکنامک اینڈ ٹیکنیکل کوآپریشن کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے مکمل کیا گیا یہ منصوبہ ملک میں پائیدار آبی وسائل کے حکومتی ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔
جنوبی سوڈان میں چین کے سفیر ما چھیانگ نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت سنٹرل ایکویٹوریا اور لیکس ریاستوں کے مختلف علاقوں میں پانی کے 47 کنویں بنائے گئے ہیں جن سے مقامی آبادی کو محفوظ اور پینے کا صاف پانی براہ راست دستیاب ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پانی کی یہ سہولیات نہ صرف آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں کمی اور صفائی ستھرائی کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد دیں گی بلکہ مویشی پالنے اور مقامی برادریوں کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔
ما چھیانگ نے کہا کہ گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹو اور فورم برائے چین-افریقہ تعاون کے تحت 10 شراکتی اقدامات پر عملدرآمد کے عملی نمونے کے طور پر یہ منصوبہ افریقہ کے حوالے سے چین کی پالیسی کے اصولوں یعنی اخلاص، عملی نتائج، دوستی، نیک نیتی اور مشترکہ مفادات کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔
مارچ 2023 میں چین اور جنوبی سوڈان نے چین کے تعاون سے کنوؤں کی کھدائی اور پانی کی فراہمی کے منصوبے پر عملدرآمد کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔
اقوام متحدہ کے فنڈ برائے اطفال کے مطابق جنوبی سوڈان کی تقریباً 59 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے جبکہ صرف 42 فیصد افراد کو بنیادی صفائی ستھرائی کی ایسی سہولیات میسر ہیں جن کے ذریعے انسانی فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔


