واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حکم نامے پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت شمسی پینلز اور سیمی کنڈکٹرز کی تیاری میں استعمال ہونے والے اہم خام مال پولی سلیکون سے بنی مصنوعات پر کم از کم درآمدی قیمت اور 15 فیصد ٹیرف عائد کر دیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق پولی سلیکون کی کم از کم درآمدی قیمت 21 امریکی ڈالر فی کلوگرام جبکہ پولی سلیکون کے بڑے ٹکڑوں اور چادروں کی کم از کم درآمدی قیمت 100 امریکی ڈالر فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے۔ یہ نئے تجارتی اقدامات 4 دسمبر سے نافذ ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے امریکی محکمہ تجارت کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ خام پولی سلیکون اور اس سے تیار ہونے والی متعلقہ مصنوعات کی مقامی پیداوار میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لئے ایک پروگرام شروع کیا جائے۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ وائٹ پیپر کے مطابق ان اقدامات کا مقصد امریکی صنعت کاروں کے لئے برابر کا مسابقتی ماحول فراہم کرنا، ان صنعتوں کی پیداوار کو دوبارہ امریکہ منتقل کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا اور امریکی قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ دفاعی اور دفاع سے وابستہ صنعتی بنیاد کو مضبوط بنانا ہے۔
وائٹ پیپر کے مطابق عالمی پولی سلیکون پیداواری صلاحیت میں امریکہ کا حصہ 2005 میں 50 فیصد تھا جو 2024 میں کم ہو کر 2 فیصد سے بھی کم رہ گیا۔


