باکو (شِنہوا) آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں 34 سالہ بس ڈرائیور نورلان سلمانلی نے کہا کہ "جب میں نے الیکٹرک بسیں چلانا شروع کیں تو فوراً محسوس ہوا کہ یہ ان بسوں سے بالکل مختلف ہیں جو میں پہلے چلاتا تھا۔ یہ انتہائی خاموش اور ہموار انداز میں چلتی ہیں، جن میں تقریباً کوئی شور یا ارتعاش نہیں ہوتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ماحول دوست ہیں۔”
سلمانلی اس سے قبل کمپریسڈ نیچرل گیس سے چلنے والی بسیں چلاتے تھے۔ 2024 میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج کے فریقین کے 29ویں اجلاس سے قبل چین سے درآمد کی گئی بی وائی ڈی کی 160 الیکٹرک بسیں آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں سروس کا حصہ بنیں اور ان روٹس پر روایتی بسوں کی جگہ لے لی جہاں سلمانلی خدمات انجام دیتے تھے۔
سلمانلی نے کہا کہ "مسافر ان بسوں کو بہت پسند کرتے ہیں، خاص طور پر بزرگ افراد اور بچوں والے خاندان۔ یہ جدید بسیں باکو میں عوامی ٹرانسپورٹ کو زیادہ آرام دہ اور سہل بناتی ہیں اور سڑکوں پر شور بھی کم کرتی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں ایسی مزید بسیں دیکھنے کو ملیں گی۔”
سلمانلی کا تجربہ اس وسیع تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جو آذربائیجان میں ماحول دوست نقل و حمل کی جانب پیش رفت کے ساتھ باکو کے عوامی ٹرانسپورٹ نظام میں رونما ہو رہی ہے۔ بی وائی ڈی کے مطابق ایک الیکٹرک بس اگر سالانہ 90 ہزار کلومیٹر سفر کرے تو وہ تقریباً 27 ہزار لیٹر ڈیزل کی بچت کرتی ہے اور ہر سال تقریباً 66 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی لاتی ہے۔
آذربائیجان کی لینڈ ٹرانسپورٹ ایجنسی کی جانب سے 2026 کے موسم بہار میں جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق باکو میں روزانہ تقریباً 2 ہزار 350 بسیں چلتی ہیں، جن میں 300 سے زائد بی وائی ڈی الیکٹرک بسیں شامل ہیں۔ ان میں سے بعض بسیں باکو سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع سمگائیت انڈسٹریل پارک میں آذربائیجان انرجی آٹوموٹیو فیکٹری(اے ای اے ایف) میں مقامی طور پر اسمبل کی گئی ہیں۔
فیکٹری کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے پیداوار اورخان قمبروف نے کہا کہ "میں اس منصوبے کے ابتدائی مراحل ہی سے اس کا حصہ رہا ہوں۔ جب پہلی بس پروڈکشن لائن سے تیار ہو کر نکلی تو ہمیں بے حد خوشی اور فخر محسوس ہوا۔ یہ ہماری فیکٹری اور ہماری ٹیم کے لئے ایک نئے دور کا آغاز تھا۔”
یہ فیکٹری آذربائیجان بزنس ڈیویلپمنٹ فنڈ، ساردا گروپ اور بی وائی ڈی کے مشترکہ اقدام سے قائم کی گئی۔ یہاں اسمبل کی جانے والی پہلی 12 میٹر طویل بی وائی ڈی الیکٹرک بس ستمبر 2025 میں فراہم کی گئی تھی۔
قمبروف کے مطابق بسوں کے بڑے پرزے فیکٹری پہنچائے جاتے ہیں، جہاں ان کی اسمبلنگ، معیار کی جانچ اور ضروری معائنہ کیا جاتا ہے۔ اب تک فیکٹری 300 مقامی طور پر اسمبل شدہ بی وائی ڈی الیکٹرک بسیں فراہم کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "منصوبے کے آغاز سے ہی چینی ٹیم نے ہمیں بھرپور تعاون فراہم کیا ہے۔ ہمارے چینی ساتھیوں نے تکنیکی امور سے لے کر معیار کی جانچ تک ہر مرحلے پر ہماری مدد کی۔ انہوں نے اپنی پیداواری مہارت اور تجربہ بھی ہماری مقامی ٹیم کے ساتھ شیئر کیا۔”قمبروف نے مزید کہا کہ چینی اور مقامی ٹیموں کے درمیان مضبوط تعاون اس منصوبے کی کامیابی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔


