واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ بورڈ آف پیس نے غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروپوں کی مکمل غیر مسلحی کے حوالے سے معاہدہ کر لیا ہے، جس کے بعد اسرائیلی افواج کا غزہ سے مرحلہ وار انخلاء شروع ہوگا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ ان کے 20 نکاتی امن منصوبے کا حصہ ہے اور غزہ میں دیرپا امن قائم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر مسلحی کا عمل مختلف مراحل میں مکمل ہوگا اور جیسے جیسے یہ عمل آگے بڑھے گا، اسرائیلی فوج غزہ سے واپس ہٹتی جائے گی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ غزہ کا انتظام بالآخر ایک نئی فلسطینی حکومت کے سپرد کرنے کا اہم قدم ہے، جو فلسطینی عوام کی مدد کے لیے بورڈ آف پیس کے ساتھ تعاون کرے گی۔
امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل کو بھی سیکیورٹی حاصل ہوگی اور غزہ کو دہشت گرد حملوں کے اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے ثالثی کرنے والے ممالک مصر، قطر اور ترکیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کے تعاون سے یہ تاریخی کامیابی ممکن ہوئی۔
تاہم، ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حماس اور اسرائیل باضابطہ طور پر معاہدے کا حصہ ہیں یا نہیں۔ دونوں فریقوں کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔


