واشنگٹن (لارڈ میڈیا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی آپریشنز کے آغاز کے بعد پہلی بار ہوئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس ملاقات کو "مثبت اور مفید” قرار دیا ہے۔
بند کمرے میں ہونے والی یہ ملاقات تقریباً نوے منٹ تک جاری رہی، جس میں بنیادی طور پر ایران اور اس کے جوہری پروگرام پر گفتگو کی گئی۔ دونوں حکومتوں نے بات چیت کے بعد جاری کردہ بیانات میں اس بات کی تصدیق کی۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ دونوں ملاقاتیں "مثبت اور مفید” تھیں، جس میں ٹرمپ کی یوکرائنی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ ہونے والی ملاقات بھی شامل تھی۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کے لیے اپنے "آہنی عزم” کا اعادہ کیا۔ نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا۔
ملاقات سے قبل ٹرمپ نے ان خبروں کو مسترد کر دیا کہ نیتن یاہو ایران کی مشتبہ جوہری سرگرمیوں پر نئی انٹیلیجنس پیش کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ پہلے ہی ان معاملات سے واقف ہیں۔


