دمشق (لارڈ میڈیا) شام کے عبوری رہنما احمد الشراع نے کہا ہے کہ شام اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کی کوشش کر رہا ہے جس میں کئی ممالک شامل ہیں، تاکہ وسیع تر امن کی راہ ہموار ہو سکے اور شام کے حقوق محفوظ رہیں۔
اتوار کو الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الشراع نے کہا کہ دمشق اسرائیل کے ساتھ فوجی تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ اس طرح کے انتظام کو جامع حل کی ممکنہ راہ کے طور پر دیکھتا ہے۔
تاہم، انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کا کوئی بھی معاہدہ شام کے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر حقوق کو متاثر نہیں کرے گا۔
اسرائیل نے دسمبر 2024 میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جنوبی شام میں حملے اور دراندازی کی لہریں شروع کر رکھی ہیں۔
پڑوسی ملک لبنان کے حوالے سے الشراع نے شام کی فوجی مداخلت کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دمشق کا وہاں افواج تعینات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔


