واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ رکن رو کھنہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کے تحت گرفتاری کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو بین الاقوامی قانون کا احترام کرتے ہوئے عدالت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
رو کھنہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر کسی شخص کے خلاف آئی سی سی نے وارنٹ جاری کیا ہے تو امریکا کو قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیتن یاہو یا صدر ولادیمیر پوتن امریکی حدود میں آئیں تو امریکی صدر کو کارروائی کا حکم دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو آئی سی سی کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے کیونکہ یہ انسانی حقوق اور عالمی قوانین سے متعلق ہے۔
واضح رہے کہ آئی سی سی نے 2024 میں غزہ جنگ کے تناظر میں نیتن یاہو کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے الزامات پر وارنٹ جاری کیا تھا، تاہم اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
رو کھنہ کے بیان سے قبل نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے بھی نیتن یاہو کی گرفتاری کی قانونی امکانات کا جائزہ لیا تھا، تاہم تسلیم کیا کہ سٹی انتظامیہ کے پاس ایسا اختیار نہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کو امریکا میں گرفتار نہیں کیا جائے گا اور وہ دورے کے دوران کسی قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کریں گے۔
رو کھنہ نے صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کو اہمیت نہیں دیتے، جس سے امریکا کی عالمی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔


