بیجنگ (شِنہوا) چینی ریاضی دان وانگ ہونگ اور ڈینگ یو کے فیلڈز میڈل حاصل کرنے والے پہلے چینی شہری بننے کی خبر نے ماہرین تعلیم، اساتذہ، طلبہ اور سائنس سے دلچسپی رکھنے والے افراد میں زبردست جوش و خروش پیدا کر دیا ہے۔ متعدد افراد نے اس کامیابی کو نہ صرف چینی ریاضی کے لئے ایک تاریخی سنگ میل بلکہ اپنے خوابوں کی تکمیل میں کوشاں نوجوانوں کے لئے ایک بڑی تحریک بھی قرار دیا ہے۔
فیلڈز میڈل حاصل کرنے والے پہلے چینی نژاد ریاضی دان شنگ تونگ یاؤ نے کہا کہ "اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی کے آغاز کے بعد سے چینی ریاضی نے مسلسل ترقی کی ہے۔ ہم ایک وقت میں ریاضی کے شعبے میں دنیا کی صف اول کی طاقتوں سے بہت زیادہ پیچھے تھے۔ آج کئی نسلوں کی مسلسل محنت کی بدولت ہم بہت سے شعبوں میں ان کے قریب پہنچ چکے ہیں۔”
چینی اکیڈمی آف سائنسز (سی اے ایس) کے غیر ملکی رکن اور فیلڈز میڈل یافتہ ریاضی دان ایفیم زیلمانوف نے کہا کہ "دونوں انعام یافتہ ریاضی دانوں کی بنیادی تعلیم چین میں مکمل ہوئی۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ان کی یہ غیر معمولی کامیابی ریاضی کے عالمی شعبے میں چین کے بنیادی اور تیزی سے بڑھتے ہوئے کردار کا مضبوط اعتراف ہے۔”
23 جولائی کو امریکہ کے شہر فلاڈیلفیا میں منعقدہ 2026 کی بین الاقوامی کانگریس برائے ریاضی کی افتتاحی تقریب میں انٹرنیشنل میتھمیٹیکل یونین (آئی ایم یو) نے فیلڈز میڈلز کے وصول کنندگان کا اعلان کیا۔
یہ اعزاز ہر چار سال بعد 40 سال سے کم عمر کے 2 سے 4 ریاضی دانوں کو دیا جاتا ہے اور اسے ریاضی کے شعبے کا نوبیل انعام تصور کیا جاتا ہے۔
وانگ ہونگ اور ڈینگ یو دونوں نے 2007 میں پیکنگ یونیورسٹی کے سکول آف میتھمیٹیکل سائنسز میں بطور انڈر گریجویٹ داخلہ لیا۔
وانگ ہونگ، جو اس وقت فرانس کے انسٹی ٹیوٹ آف ہائر سائنٹیفک اسٹڈیز میں مستقل پروفیسر ہیں، نے جوشوا زال کے ساتھ مل کر 2025 میں سہ جہتی کاکیا سیٹ قیاس کو حل کیا۔ ڈینگ یو، جو شکاگو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، نے اپنے ساتھی محققین کے ساتھ مل کر ہلبرٹ کے چھٹے مسئلے کی محدود شکل کو حل کیا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے وانگ ہونگ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہا کہ”آپ کے کام کے لئے میری قدر و تحسین مزید بڑھ گئی ہے اور نوجوان لڑکیوں کے لئے آپ ایک بہترین مثال ہیں۔”


