صنعاء (لارڈ میڈیا) یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فضائی حملوں میں بحیرہ احمر کے شہر حدیدہ اور کمران جزیرے میں ٹیلی کمیونیکیشن تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون زخمی ہوگئیں۔
حوثی زیرانتظام المسیرہ ٹی وی نے کہا ہے کہ سعودی جارحیت نے حدیدہ اور کمران جزیرے میں ٹیلی کمیونیکیشن کی سہولیات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون زخمی ہوگئیں۔
بعد ازاں گروپ کے دفاعی حکام کے ایک ذریعے نے کہا کہ حوثی فضائی دفاع نے کئی سعودی فوجی طیاروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ سعودی حکام نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
حدیدہ کے رہائشیوں نے بتایا کہ شہر کے مختلف حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ایک رہائشی نے کہا کہ حدیدہ بندرگاہ کے ارد گرد سے پانچ سے زائد دھماکوں کی آوازیں آئیں اور علاقے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
یہ فضائی حملے اس وقت ہوئے جب سعودی میڈیا نے نقل و حمل کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ سعودی آئل ٹینکر این سی سی ماسا کو بحیرہ احمر میں ایک حملے کے دوران معمولی نقصان پہنچا، تاہم اس نے اپنا سفر جاری رکھا۔
حوثی گروپ نے پیر کے روز سعودی شپنگ پر بحری پابندی کا اعلان کیا تھا اور جمعرات کو کہا کہ انہوں نے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی نے بعد میں تصدیق کی کہ ایک سعودی کمپنی کے زیر ملکیت ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا اور اس میں آگ لگ گئی۔
یمن 2014 کے اواخر سے تنازع کا شکار ہے، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء اور شمالی یمن کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں سعودی قیادت والے اتحاد نے اگلے سال مداخلت کی۔


