ہومتازہ ترینواشنگٹن میں ایران کے خلاف ممکنہ بڑے آپریشن کے آپشن پر غور

واشنگٹن میں ایران کے خلاف ممکنہ بڑے آپریشن کے آپشن پر غور

واشنگٹن (لارڈ میڈیا): ایران کے خلاف ممکنہ بڑے آپریشن کے آپشن پر غور کیا جا رہا ہے، جس میں اسرائیل کی شمولیت کا بھی امکان ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق تہران کے قریب یا جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا گیا ہے، تاہم بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کی صورت میں یہ پالیسی تبدیل ہو سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی طیاروں کی تعیناتی کی جا رہی ہے اور حتمی فیصلہ امریکی صدر ٹرمپ کریں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سینٹکام نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی فوج کے کمانڈ سینٹرز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور فضائی دفاع کے نظاموں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ایران کی حملے جاری رکھنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

امریکی فوج نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے اور سینٹکام فورسز نے تقریباً 900 تجارتی جہازوں کو آبنائے عبور کرنے اور 45 کروڑ بیرل خام تیل کی ترسیل میں مدد فراہم کی ہے۔ امریکی افواج تیار ہیں کہ اگر ایران کسی جارحیت کا ارتکاب کرے تو اسے جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں