ہومتازہ ترینچینی رپورٹ میں عالمی مصنوعی ذہانت کی ترقی کے نئے رجحانات اجاگر

چینی رپورٹ میں عالمی مصنوعی ذہانت کی ترقی کے نئے رجحانات اجاگر

شنگھائی (شِنہوا) عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی ترقی میں بنیادی ڈھانچے، بڑے اے آئی ماڈلز کی صنعتی تشکیل اور عالمی طرز حکمرانی کے حوالے سے نئے رجحانات سامنے آ رہے ہیں۔

شنگھائی میں 2026 کی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس اور مصنوعی ذہانت کی عالمی گورننس سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں چین کے انسٹی ٹیوٹ آف سائنٹیفک اینڈ ٹیکنیکل انفارمیشن اور پیکنگ یونیورسٹی کی جانب سے مرتب کردہ ’’عالمی اے آئی اختراعی اشاریہ رپورٹ 2026‘‘ کے مطابق عالمی سظح پر اے آئی کی بنیادی سہولیات مسلسل وسعت اختیار کر رہی ہیں جبکہ توانائی کی فراہمی مستقبل میں اے آئی کی ترقی کے لئے ایک اہم نیا عنصر بن کر ابھر رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے مصنوعی ذہانت ماڈلز کی صنعتی توجہ عمومی مقاصد سے مخصوص شعبہ جاتی استعمال کی جانب یعنی تربیت سے استدلال کی جانب اور محدود تکنیکی استعمال سے پورے کاروباری عمل کی تبدیلی کی جانب منتقل ہو رہی ہے، جبکہ ادارے بڑے پیمانے پر بھاری سرمایہ کاری کے ماڈل کو اختیار کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ عالمی سطح پر اے آئی کے موثر نظم و نسق کی فوری ضرورت ہے اور چین مختلف پہلوؤں سے عالمی اے آئی نظم و نسق اور جامع بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔

’’عالمی اے آئی اختراعی اشاریہ رپورٹ 2026‘‘ میں 46 ممالک میں مصنوعی ذہانت کی اختراع اور ترقی کا مقداری جائزہ پیش کیا گیا ہے جو دنیا بھر میں اے آئی کی مجموعی صورتحال اور اس کے بدلتے ہوئے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں