اسلام آباد (لارڈ میڈیا) ٹک ٹاک نے پاکستان میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی شناخت اور سمجھ بوجھ میں بہتری کے لئے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان میں ایپ کے اندر اے آئی لٹریسی ہب متعارف کرایا جائے گا۔
ٹک ٹاک کے مطابق، جنریٹو اے آئی کے ذریعے مواد کی تیاری میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے، اس لئے کمپنی شفافیت بڑھانے کے لئے نئے تعلیمی وسائل اور اسپیم کی بہتر شناخت کے لئے صنعتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو بڑھا رہی ہے۔
ٹک ٹاک نے نیوز اینڈ میڈیا لٹریسی الائنس اور معروف ڈیپ فیک محقق ہنری اجدر کے ساتھ شراکت داری کی ہے، جس کے تحت ایک عملی گائیڈ تیار کی گئی ہے تاکہ صارفین اے آئی ٹیکنالوجی سمجھ سکیں اور اس کا ذمہ داری سے استعمال کر سکیں۔
کمپنی کے مطابق، نومبر 2025 میں اس اقدام کے آغاز کے بعد No Filtr اور Raspberry Pi سمیت شراکت داروں نے تعلیمی مواد تیار کیا ہے، جسے 20 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ کمپنی نے اس پروگرام کے لئے 40 لاکھ ڈالر سے زائد مختص کئے ہیں۔
ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ جنریٹو اے آئی کے غلط استعمال کے ذریعے اسپیم پھیلانے کے سلسلے میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 8 کروڑ 60 لاکھ سے زائد جعلی اکاؤنٹس ختم کئے گئے۔ جلد ہی جدید نظام کی آزمائش شروع ہوگی جو خاص طور پر اے آئی اسپیم پوسٹ کرنے والے اکاؤنٹس کی شناخت کرسکے گا۔


