آسٹریلیا (لارڈ میڈیا): ایک نئی طویل المدتی تحقیق کے مطابق زائد چربی اور پٹھوں کی کمزوری ایک ساتھ ہونے پر ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ ساڑھے تین گنا تک بڑھ سکتا ہے۔ کرٹن یونیورسٹی کے محققین کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں 4 لاکھ 80 ہزار بالغ افراد کی صحت کا 14 سال تک جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں ایسے افراد کو زیادہ خطرہ پایا گیا جو موٹاپے کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری کا شکار تھے۔ ان میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ صرف موٹاپے والے افراد کے مقابلے میں 19 فی صد زیادہ تھا جبکہ صرف کم عضلاتی کمیت والے افراد کے مقابلے میں یہ خطرہ 91فی صد زیادہ تھا۔
ماہرین نے بتایا کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس ایک دائمی بیماری ہے جو اعصاب، آنکھوں اور گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور دل کی بیماریوں میں اضافہ کرتی ہے۔ تحقیق کے مرکزی مصنف ژونگ یانگ گوان نے کہا کہ نتائج اس عام تاثر کو چیلنج کرتے ہیں کہ ذیابیطس کا خطرہ صرف جسمانی وزن سے وابستہ ہوتا ہے اور پٹھوں کی طاقت کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔


