ہومپاکستانکالعدم ایکشن کمیٹی کی قیادت خود کو قانون کے حوالے کرے، آزاد...

کالعدم ایکشن کمیٹی کی قیادت خود کو قانون کے حوالے کرے، آزاد کشمیر حکومت

مظفرآباد (لارڈ میڈیا): آزاد کشمیر حکومت نے کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت پر بھارت سے فنڈنگ لینے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملازمین کا قتل کرنے، اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں خود کو قانون کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سیکریٹری اطلاعات محمد راشد حنیف اور پولیس ترجمان ڈی آئی جی عرفان مسعود کشفی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایکشن کمیٹی نے ریاست کو 15 ارب روپے کا نقصان پہنچایا اور عوامی حقوق کی تحریک کو شرپسند عناصر نے ہائی جیک کرلیا ہے۔

حکومت کے مطابق عوام کو سستا آٹا اور بجلی فراہم کی جا رہی ہیں، اس لیے بنیادی حقوق واپس لینے کا تاثر غلط ہے۔ سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ 5 جولائی کی ہڑتال کی کال کو عوام اور تاجروں نے مسترد کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم کمیٹی ماضی کے پرتشدد واقعات کی وجہ سے پابندی کا سامنا کر رہی ہے اور انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ 79 مقدمات درج ہیں اور ملک دشمن عناصر کو بھارت سے فنڈنگ فراہم کی جا رہی ہے۔

پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ کمیٹی نے سرکاری دفاتر، پولیس اور انتظامیہ پر حملے کیے، سرکاری گاڑیاں نذر آتش کیں اور متعدد افراد جاں بحق یا زخمی ہوئے۔

آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان نے کہا کہ 17 احتجاجی کارندوں سے مہلک ہتھیار برآمد کیے گئے اور 4 جولائی کی فائرنگ کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ریاست مستند فوٹیج پیش کرنے کا چیلنج کرتی ہے۔

پولیس کے مطابق راولاکوٹ میں فائرنگ ہجوم میں موجود مسلح افراد نے کی جبکہ مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کریک ڈاؤن کیا۔

پولیس کے ترجمان نے مزید کہا کہ 5 جولائی کو ڈڈیال میں سرغنہ خواجہ مہران کی ایماء پر فائرنگ کی گئی، جس سے 5 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے اور ایکشن کمیٹی قیادت کو خود کو قانون کے حوالے کرنے کا کہا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں