بیجنگ(شِنہوا) چین کا تیان وین-2 خلائی تحقیقی مشن تقریباً ایک ارب کلومیٹر پر مشتمل 400 روزہ سفر مکمل کرنے کے بعد کامیابی سے سیارچے 2016ایچ او3 سے 20 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گیا ہے جس کے بعد اس نے سائنسی تحقیق کا آغاز کر دیا ہے۔
چین نے 29 مئی 2025 کو سیارچے کے نمونے کی واپسی کے اپنے پہلے مشن تیان وین-2 کا آغاز کیا تھا۔ تقریباً 10 سالہ مشن کے دوران زمین کے قریب واقع سیارچے 2016ایچ او3 سے نمونے جمع کرنے اور مریخ سے بھی زیادہ فاصلے پر موجود مین بیلٹ دمدار ستارے 311 پی کا سائنسی جائزہ لینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
قریب پہنچنے کے مرحلے کے دوران خلائی جہاز نے سیارچے کی تصاویر حاصل کیں۔ سی این ایس اے کے مطابق مشن ٹیم نے قریبی پرواز کے دوران حاصل ہونے والے آپٹیکل نیویگیشن ڈیٹا کی مدد سے سیارچے کے مداری محل وقوع کا ازسر نو تعین کیا جس کے نتیجے میں پہلے صرف زمینی مشاہدات کی بنیاد پر سیکڑوں کلومیٹر تک موجود محل وقوع کی غیر یقینی کیفیت کم ہو کر تقریباً چند کلومیٹر تک محدود ہو گئی۔
سیارچے کی جانب سفر کے دوران خلائی جہاز نے گہری خلا میں مختلف مشقیں اور مدار کی درستگی کے آپریشن بھی انجام دیئے۔ 6 جون 2026 کو اس نے پہلی مرتبہ سیارچے کا کامیاب مشاہدہ کیا۔ 7 جون کو 30 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر یہ سیارچے کے ساتھ کو پلینر مدار میں داخل ہوا جبکہ 19 جون کو یہ سیارچے سے صرف 2 ہزار کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گیا۔
سی این ایس اے کے مطابق آئندہ مرحلے میں خلائی جہاز مزید تفصیلی سائنسی مشاہدات کرے گا تاکہ سیارچے کی ساخت، مادی ترکیب اور اندرونی بناوٹ سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں جو بعد میں نمونے جمع کرنے کی کارروائی کے لئے بنیاد فراہم کریں گی۔


