ہومتازہ تریننان جنگ اور استنبول کے درمیان ثقافتی ورثے کے تحفظ میں تعاون...

نان جنگ اور استنبول کے درمیان ثقافتی ورثے کے تحفظ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

استنبول (شِنہوا) چین کے شہر نان جنگ اور ترکیہ کے شہر استنبول کے حکام اور ماہرین نے اس ہفتے یہاں منعقدہ "نان جنگ-استنبول شہری تہذیبی مکالمہ” میں شرکت کی، جہاں ثقافتی ورثے کے تحفظ اور پائیدار شہری ترقی سے متعلق خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔
اس مکالمے کا مشترکہ اہتمام چین کے ریاستی کونسل کے دفتر برائے اطلاعات اور انقرہ میں چینی سفارتخانے نے کیا۔ اس میں مقامی حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، جامعات، اشاعتی اداروں، ادبی حلقوں اور ذرائع ابلاغ کے 100 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔
ماہرین کے مطابق نان جنگ اور استنبول دونوں قدیم فصیلوں اور بھرپور ثقافتی ورثے کے حامل ایسے بڑے شہر ہیں جو تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے باعث یکساں دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں شہروں میں تاریخی ورثے کے تحفظ کے لئے جاری اقدامات قدیم شہروں کے لئے اہم نمونہ فراہم کرتے ہیں۔
نان جنگ یونیورسٹی کے شعبہ تعمیرات و شہری منصوبہ بندی کے پروفیسر لو آن دونگ نے کہا کہ مکالمے کا محور یہ تھا کہ "شہر تہذیب کو کس طرح آگے بڑھاتے اور نئے انداز میں فروغ دیتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ استنبول کے ییدی کُلے بوستان اور نان جنگ کے تاریخی محلوں جیسے زندہ ثقافتی ورثے کا تحفظ آثار قدیمہ کی انجینئرنگ جتنا ہی اہم ہے۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگرچہ نان جنگ اور استنبول کی تاریخی روایات مختلف ہیں، تاہم ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق دونوں کو یکساں نوعیت کے بہت سے چیلنجز درپیش ہیں اور عملی تجربات کے تبادلے سے دونوں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ترکیہ کے شہر استنبول میں واقع گالاتا ٹاور کا منظر دیکھا جا سکتا ہے۔(شِنہوا)

استنبول میٹروپولیٹن میونسپلٹی کے شعبہ تاریخ شہر، تشہیر اور سیاحت کی سربراہ ہوریے مروے گیدک نے کہا کہ یہ مکالمہ دونوں شہروں کے لئے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے تجربات کے تبادلے کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "اگرچہ ہمارے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ ہے، لیکن ایک دوسرے کے فن تعمیر اور تاریخ سے آگاہی دونوں فریقوں کے لئے فائدہ مند ہے۔”
گیدک نے بتایا کہ پانچویں صدی میں تعمیر ہونے والی استنبول کی قدیم فصیل کی اصل لمبائی تقریباً 22 کلومیٹر تھی۔ اب اس کے باقی رہ جانے والے 7.2 کلومیٹر حصے کی بحالی کا کام جاری ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے نان جنگ ایک مثالی شراکت دار ہے کیونکہ اس کی 14 ویں صدی کی منگ عہد کی فصیل دنیا کی طویل ترین محفوظ تاریخی فصیلوں میں شمار ہوتی ہے اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے قیمتی تجربات فراہم کرتی ہے۔
شرکاء نے کہا کہ قدیم شاہراہ ریشم کے ذریعے کبھی تجارت، لوگوں اور خیالات کے تبادلے سے جڑے نان جنگ اور استنبول اب ثقافتی ورثے کے تحفظ میں تعاون کے ذریعے نئے تعلقات استوار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس مکالمے نے اس عزم کو اجاگر کیا کہ دونوں شہر نہ صرف اپنے تاریخی ورثے کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں بلکہ اسے آئندہ نسلوں تک بھی منتقل کرنے کے خواہاں ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں