ارمچی (شِنہوا) چین اور وسطی ایشیا کے کئی ممالک نے ریموٹ سینسنگ ڈیٹا کے مشترکہ استعمال اور زلزلوں، زرعی کیڑوں کے حملوں اور گلیشیائی سیلاب جیسے مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لئے ایک مشترکہ سیٹلائٹ نیٹ ورک تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
تکنیکی تعاون کے معاہدے پر جمعرات کو چین کے شمال مغربی سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے کے دارالحکومت ارمچی میں جاری 9ویں چین-یوریشیا ایکسپو کے موقع پر دستخط کئے گئے۔ سائنس دانوں کے مطابق تیان وو کونسٹیلیشن نامی اس خلائی نگرانی کے نظام کا ابتدائی مرحلہ 5 سیٹلائٹس پر مشتمل ہوگا۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ریموٹ سینسنگ کے ماہر تونگ چھنگ شی نے کہا کہ چین کا سنکیانگ، جو کئی وسطی ایشیائی ممالک سے ملحقہ ہے، اپنے ہمسایہ ممالک کی طرح جغرافیائی خصوصیات اور قدرتی خطرات رکھتا ہے جن میں زلزلے، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئر پگھلنے سے آنے والے سیلاب شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ مشترکہ سیٹلائٹ نیٹ ورک انہی مشترکہ آفات سے بچاؤ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ منصوبہ صرف سیٹلائٹس کی تعیناتی تک محدود نہیں بلکہ فضا، خلا اور زمین پر مشتمل ایک مربوط اور ذہین نگرانی کا نظام ہوگا۔ خطے سے حاصل ہونے والا سیٹلائٹ ڈیٹا سنکیانگ میں قائم ایک کمپیوٹنگ مرکز میں پراسیس کیا جائے گا جہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ارضیاتی آفات کی پیش گوئی، زرعی کیڑوں کی نشاندہی اور گلیشیئرز کے پگھلنے کی نگرانی کے لئے جدید ماڈلز تیار کئے جائیں گے۔
انٹرنیشنل یوریشین اکیڈمی آف سائنسز کے رکن چھن شی جو گلیشیائی ارضیات کے ماہر ہیں، نے کہا کہ سنکیانگ اور اس سے ملحقہ وسطی ایشیائی ممالک ایک ہی پہاڑی سلسلوں سے جڑے ہوئے ہیں جہاں حالیہ برسوں میں گلیشیئرز کا 20 سے 40 فیصد حصہ پگھل چکا ہے۔


