واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پایا ہے، جسے لبنانی محاذ پر جاری جنگ کے خاتمے اور ممکنہ مستقل امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ معاہدے کے تحت لبنانی فوج پورے ملک میں اپنی عملداری بحال کرے گی جبکہ اسرائیلی افواج مرحلہ وار لبنانی سرزمین سے واپس جائیں گی۔
معاہدے کے مطابق غیر سرکاری مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے گا اور لبنانی مسلح افواج اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج مرحلہ وار لبنانی علاقوں سے انخلا کرے گی۔
لبنان نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ سلامتی، دفاع اور جنگ یا امن سے متعلق تمام فیصلوں کا اختیار صرف لبنانی ریاست اور اس کے سرکاری سیکیورٹی اداروں کے پاس ہوگا۔
معاہدے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کیا جاتا ہے تو اسرائیل کو جواب دینے کا حق حاصل ہوگا، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے کی کوشش کریں گے۔
دونوں ممالک ایک جامع امن معاہدے کا مسودہ تیار کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیں گے۔ اسرائیلی فوج کی مرحلہ وار ازسرِ نو تعیناتی اور انخلا کا ذکر ہے، تاہم لبنان میں اسرائیلی فوج کی مستقل موجودگی کو تسلیم کرنے کی کوئی شق شامل نہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ معاہدہ پائیدار امن اور سلامتی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ لبنان کی سفیر ندیٰ حمادہ معوض نے کہا کہ یہ معاہدہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی وحدت کی بحالی کی جانب اہم قدم ہے۔
لبنان میں حالیہ جنگ حزب اللہ کے اسرائیل پر راکٹ حملوں سے شروع ہوئی تھی، جس کے بعد اسرائیل نے وسیع فضائی حملے اور زمینی کارروائی کی تھی۔ چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اگرچہ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، تاہم اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے واضح کیا ہے کہ اہم اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔


