پوڈگوریتسا (شِنہوا) چین اور مونٹی نیگرو نے پوڈگوریتسا میں یوتھ گالا کے ذریعے سفارتی تعلقات کی 20ویں سالگرہ منائی، جس میں حکام نے بنیادی شہری سہولتوں میں گزشتہ دو دہائیوں کے تعاون اور عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے روابط کو اجاگر کیا۔
تقریب میں تقریباً 400 حکومتی عہدیداران، طلبہ اور ثقافتی نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ تقریب مونٹی نیگرو میں چینی سفارت خانے کی میزبانی اور مونٹی نیگرو کی وزارت ثقافت و میڈیا کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔
نوجوان چینی اور مونٹی نیگرو کے فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ پیش کیا، جس میں چینی روایتی عناصر کو مغربی موسیقی کے آلات اور لوک دھنوں کے ساتھ خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مونٹی نیگرو میں چین کے سفیر چھن شو فینگ نے کہا کہ یہ تقریب دونوں ممالک کی مضبوط دوستی اور اس تعلق کو آگے بڑھانے میں نوجوانوں کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رات کو ایرہو اور وائلن ایک فنی مکالمہ کریں گے، یوے اوپیرا اور مونٹی نیگرین لوک گیت ایک ساتھ گونجیں گے۔ یہ صرف فن کا ملاپ نہیں بلکہ دلوں کا رابطہ ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل شراکت داری کی امید کا اظہار بھی کیا۔
مونٹی نیگرو کے پارلیمانی نائب صدر مرساد نورکووچ نے کہا کہ اس شراکت داری نے دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کے ذریعے ٹھوس نتائج پیدا کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا تعاون صرف رسمی سیاسی بیانات اور پروٹوکول تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے نتیجے میں مونٹی نیگرو کے شہریوں کے لئے بڑے اور تزویراتی منصوبے مکمل ہوئے جن میں سڑکوں کی بنیادی سہولت کا تعاون خاص طور پر اہم ہے۔
نوجوانوں کو بہترین سفیر قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقی تعلقات صرف ملکوں کے درمیان معاہدوں سے نہیں بنتے بلکہ لوگوں، طلبہ، سائنسدانوں اور کھلاڑیوں کے براہ راست روابط سے مضبوط ہوتے ہیں۔
مونٹی نیگرو کی وزارت یورپی امور میں یورو-ایشیا تعلقات کی پالیسی تجزیہ کار ایوانا ایوا سیکولک نے شِنہوا کو بتایا کہ گزشتہ 20 سالوں میں دونوں ممالک کے تعاون نے عملی نتائج دیئے ہیں جس کی مثال دریائے تارا کے پل کی تعمیر نو ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اور مونٹی نیگرو کا تعاون اب صرف بنیادی شہری سہولتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ دیگر معاشی شعبوں تک بھی پھیل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے امکانات بہت وسیع ہیں۔


