ہوانا (شِنہوا) کیوبا کے صدر میگوئل دیاز-کانیل نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے عائد کی گئی نئی پابندیاں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کیوبا کے خلاف جاری محاصرے میں مزید شدت پیدا کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔
امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے دیاز-کانیل، چند دیگر افراد اور کیوبا کی انقلابی مسلح افواج کی وزارت سمیت 5 اداروں کو خصوصی طور پر نامزد کردہ افراد و اداروں کی اپنی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
اس سے پہلے ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اپنی توجہ کیوبا پر مرکوز کر سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں دیاز-کانیل نے کہا کہ امریکی اقدامات کا مقصد "ناکہ بندی کے اقدامات اور کیوبا اور امریکہ کے درمیان تصادم کے ماحول کو مزید مضبوط بنانا” ہے۔
دیاز-کانیل نے مزید کہا کہ حالیہ ہفتوں میں کیوبا کے خلاف نافذ کی گئی "جبری پابندیوں” کا مقصد کیوبا کے عوام کو نقصان پہنچانا ہے اور امریکی حکومت کی "جارحیت اور بدنیتی” کا سامنا کیوبا کے اس عزم سے ہوگا کہ وہ "بدترین حالات کا مقابلہ کرے گا اور سامراجی دباؤ کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گا۔”


