تہران (شِنہوا) ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی صورت اپنے افزودہ یورینیم کو کسی غیر ملک منتقل نہیں کرے گا اور اسے امریکہ بھیجنے کا معاملہ کبھی زیر غور نہیں آیا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی آئی آر آئی بی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے حالیہ بیانات 8 اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان اعلان کردہ جنگ بندی کے تناظر میں تھے، یہ کسی نئی سفارتی پیش رفت کا اشارہ نہیں۔
بقائی نے وزیر خارجہ کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے بعد ایران نے واشنگٹن کے ساتھ معاہدے میں طے شدہ محفوظ گزرگاہ کی شرائط کو اس آبنائے سے گزرنے والے جہازوں پر لاگو کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کوئی نیا معاہدہ نہیں کیا۔ جنگ بندی وہی ہے جو 8 اپریل کو اعلان کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جنگ بندی کے آغاز سے ہی لبنان تک اس کے دائرہ کار کو بڑھانے کے وعدے کی پاسداری نہیں کی، جسے ایران معاہدے کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ واشنگٹن اور یروشلم اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔
بقائی نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز پر امریکہ کی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو ایران “جوابی اقدامات” کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے اور پاکستان کی قیادت میں ثالثی کی کوششیں اب بھی تنازع کے خاتمے اور ایران کے مفادات کے تحفظ پر مرکوز ہیں۔
ایکسیوس نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان میں ممکنہ طور پر اتوار کو متوقع ہے۔


