بشکیک (شِنہوا) کرغز ماہر معاشیات اسکندر شارشیف نے کہا ہے کہ چینی مارکیٹ اب نہ صرف بین الاقوامی کاروبار کے لئے ایک بڑا سیلز پلیٹ فارم سمجھی جاتی ہے بلکہ اسے ترقی کے لئے سب سے قابل اعتماد اور امید افزا مراکز میں سے ایک کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
شِنہوا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تصور واضح طور پر چین کے جنوبی صوبے ہائی نان میں 13 سے 18 اپریل تک جاری چھٹی چین بین الاقوامی صارف مصنوعات نمائش (سی آئی سی پی ای) میں نظر آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تجارتی پابندیوں اور عالمی سپلائی چینز میں عدم استحکام کے باوجود چین کی صارف مارکیٹ مستقل مزاجی اور بیرونی چیلنجز کے مطابق خود کو تیزی سے ڈھالنے کی بھرپور صلاحیت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین نے کھپت کی ترغیبات، مصنوعات کی اپ گریڈنگ اور قوت خرید کو مضبوط بنانے کے اقدامات کے ذریعے اپنی مقامی مارکیٹ کی مسلسل حمایت کی ہے۔
ماہر نے کہا کہ یہ تقریب متعدد عالمی برانڈز کو ایک جگہ جمع کرتی ہے اور ان کمپنیوں کے اس اعلیٰ درجے کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے جو دنیا بھر کے کاروباری اداروں کو چینی معیشت کی طویل مدتی صلاحیتوں پر حاصل ہے۔
چین نے گزشتہ دسمبر میں ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ میں پورے جزیرے پر مشتمل خصوصی کسٹمز آپریشنز کا آغاز کیا تھا۔ شارشیف نے کہا کہ اس طرح کا اقدام بین الاقوامی شراکت داروں کے لئے چینی مارکیٹ کے ساتھ کام کرنے کا ایک نیا فارمیٹ تشکیل دیتا ہے جہاں محصولات اور انتظامی رکاوٹیں کم ہو جاتی ہیں، درآمد و برآمد کے طریقہ کار کو آسان بنایا جاتا ہے، لاجسٹکس کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور سرحد پار تجارت کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔


