تہران (شِنہوا) ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لئے امریکہ کے پاس واحد راستہ یہ ہے کہ وہ درست فیصلہ کرے اور ایرانی قوم کا اعتماد حاصل کرے۔
انہوں نے یہ بات پاکستان کے دورے سے ایران واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جہاں وہ اپنے وفد کے ہمراہ امریکی ٹیم کے ساتھ امن مذاکرات میں شریک ہوئے تھے۔
قالیباف نے کہا کہ امریکہ ایرانی عوام کا مقروض ہے اور اسے ان کے ازالے کے لئے سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ جنگ کریں گے تو ہم بھی جنگ کریں گے اور اگر وہ منطق کے ساتھ آگے بڑھیں گے تو ہم بھی منطق سے جواب دیں گے۔ ہم کسی دھمکی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک بار پھر ہمارے عزم کو آزما سکتے ہیں اور ہم انہیں بڑا سبق سکھائیں گے۔
قالیباف نے اسلام آباد میں امریکی وفد کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو انتہائی سخت، سنجیدہ اور چیلنجنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماہرین کی صلاحیتوں اور جامع و متنوع نکتہ نظر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانی وفد نے ملک کی نیک نیتی ظاہر کرنے کے لئے بہترین تجاویز دیں جس سے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم نے ابتدا ہی سے واضح کر دیا تھا کہ ہمیں امریکیوں پر اعتماد نہیں۔ ہماری بے اعتمادی کی دیوار 77 برس پرانی ہے۔ خاص طور پر گزشتہ 12 ماہ سے بھی کم عرصے میں انہوں نے مذاکرات کے دوران ہم پر دو بار حملہ کیا اس لئے اعتماد بحال کرنا انہی کی ذمہ داری ہے۔
قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی دھمکیوں کا ایرانی عوام پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ایران اور امریکہ کے وفود نے ہفتے کے روز اور اتوار کی صبح اسلام آباد میں طویل مذاکرات کئے تاہم یہ مذاکرات کسی معاہدے پر پہنچ نہ سکے۔ یہ بات چیت ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تقریباً 40 روزہ لڑائی کے بعد بدھ کے روز جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہوئی۔


