حکومت پنجاب نے رئیل سٹیٹ کے شعبہ میں اہم اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے سٹامپ آرڈیننس 2026 نافذ کر دیا ہے جس کے تحت قابل تفویض دستاویز کو باقاعدہ قانونی حیثیت دیدی گئی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی اکرام الحق نے اس حوالے سے کہاہے کہ پراپرٹی سرمایہ کاری کیلئے ایک نیا، آسان اور شفاف نظام متعارف کروایا گیا ہے جس سے لین دین کو محفوظ بنانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
حکام کے مطابق قابل تفویض دستاویز پر 12ماہ تک صرف ایک فیصد سٹامپ ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جبکہ اس پر کسی قسم کا اضافی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، اس کیساتھ شہری اور دیہی علاقوں میں ٹیکس کا فرق بھی ختم کر دیا گیا ہے، زرعی زمین کی سٹامپ ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی گئی ہے جبکہ غیر رسمی بیعانہ اور فائل ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
ڈی جی پلرا کا کہناتھا کہ قابل تفویض دستاویز کی ای رجسٹریشن کے ذریعے پراپرٹی لین دین کو مزید محفوظ بنایا گیا ہے جس سے فراڈ کے امکانات میں نمایاں کمی متوقع ہے، نئے نظام کے تحت قابل تفویض دستاویز کے ذریعے پراپرٹی حقوق کسی دوسرے فرد کو منتقل کرنا بھی ممکن ہوگا، حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔


